سجادگان ِ ہجر کی صحبت میں مر گیا
زندہ وہی رہا جو محبت میں مر گیا
کتنی جڑی ہوئی تھی کسی سے یہ اپنی سانس
وہ خواب میں مرا ، میں حقیقت میں مر گیا
تم خوش نصیب تھےکہ عدالت تلک گئے
میں تو سپاہیوں کی حراست میں مر گیا
اتنی بڑھا نہ عشوہ و غمزہ کی داستاں
میں تجھ پہ یونہی یار،مروت میں مر گیا
دیکھا...