ملالِ یار دکھی بے حساب رکھتا ہے
یہ زندگی پہ سدا ہی عذاب رکھتا ہے
.... عذاب رکھنا اگرچہ محاورہ نہیں، لیکن قبول کیا جا سکتا ہے مطلع میں۔ لیکن 'سدا ہی' مجھے اچھا نہیں لگ رہا روانی میں۔ اس کی جگہ ' ہمیشہ' نہیں کیا جا سکتا؟ یا اس سے بہتر
یہ زندگانی پہ دائم....
دائمی آ سکے تو اور بہتر ہو جائے
'پہ' کی...