سر تسلیم خم ہے
استادِ محترم کی خاص فرمائش پر پیشِ خدمت ہے ان کے خوبصورت کلام کی پیروڈی
یہ جتانا ضروری اس لیے سمجھا کہ یوں ہماری ہمت نہ ہوتی کہ استاد کی غزل کا تیا پانچہ کرتے۔
دوسری بیوی از محمد خلیل الرحمٰن
ایے نازوں کی پالی، مری اے دوسری بیوی
گو میں ترا پہلا ہوں بڑی دیر سے چُپ ہوں
اتنا سا...
اور اب لرزتے ہاتھوں سے لکھ رہے ہیں جناب ظہیراحمدظہیر بھائی کی خوبصورت غزل کی پیروڈی
بیویاں چھوڑگئی ہیں مجھے بازار کے بیچ
لا کے پٹخا تھا مقدر نے جو منجدھار کے بیچ
زینتِ صفحہ ء اول ہے تماشا میرا
چُن دیا ہے مجھے دونوں نے جو دیوار کے بیچ
یادِ ایام کہن اور کبھی ذکرِ یاراں
چھپ کے بیٹھا ہوں kitchen...
حضرت آپ کے ذاتی پیغام کو پڑھنے سے پہلے ہم آپ کی اس شہرہء آفاق غزل پر اپنا تبصرہ ارسال کرچکے تھے اور فاتح بھائی کو مدد کے لیے پکار چکے تھے۔
محبت نامہ پڑھا تو اپنے شک کو درست پایا، ہمارا مزہ دوبالا ہوگیا لیکن چونکہ دیر ہوچکی تھی لہٰذا یوں ہی چلنے دیا۔
فاتح بھائی ! یہی سوزشِ دل والی لڑی ہمیں یاد تھی لیکن کئی بار کوشش کے باوجود تلاش نہ کرپائے تھے، آج ظہیر بھائی کی یہ غزل پڑھی تو معاً اس لڑی کا خیال آیا اور ہم نے فوراً آپ کے نام دہائی دے ڈالی۔ شکر ہے کہ آپ نے خود ہی اس کا لنک دے دیا۔
راحم خدا!
نہ ہوئے عبدالرحمٰن بجنوری زندہ کہ انہیں سے آج ظہیر بھائی کی اس غزل کا مطلب ہی پوچھ لیتے۔ صبح اٹھتے ہی اس غزل کو دیکھ کر لغت اٹھائی تھی کہ مولوی فیروزالدین صاحب نے بھی ہاتھ جوڑلیے۔ اب تو فاتح بھائی کا ہی آسرا ہے، ان ہی کا نام ذہن میں آتا ہے کہ ان سے اس غزل کی تشریح کے لیے درخواست کی...
معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ جس طرح آپ پاکستانی ہونے کے باوجود ورک ہیں، لغاری ہیں، مزاری ہیں، اسی طرح ہم پاکستانی ہونے کے باوصف مہاجر ہیں، مہاجروں کی اولاد ہیں، اردو بولنے والے ہیں۔
پاکستان کچھ جغرافیائی حدود کا نام نہیں بلکہ ایک نظریئے کا نام ہے۔ پاکستان برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے لیے...
محمد ریحان قریشی بھائی کی پیش کردہ مانوس بحور کی فہرست ہم مبتدیوں کے لیے ۔
غالب نے جن بحور کا استعمال کیا وہ درج ذیل ہیں:
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن(رمل مثمن محذوف)
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن(مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)
فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن(ہزج مثمن اشتر)
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن...
ہماری صلاح یہ ہے کہ اساتذہ کی آمد سے پہلے مطلع اول کو نکال باہر کیجے۔ نیز بے وفاؤ! اردو نہیں بلکہ پنجابی انداز ہے اسے بھی درست کرلیجے۔ باقی اساتذہ جانیں
"دیجے" کو بھی ہٹانا بہتر ہوگا۔
چھوٹا سا مگر مچھ
چھوٹا سا مگر مچھ کیسے اپنی دُم کو
ہردم سنبھال رکھتا ہے
گنگا جل میں دھوکر کیسے چمکیلی
اپنی وہ کھال رکھتا ہے
کیسی میٹھی میٹھی اس کی مسکراہٹ
کیسے ہیں تیز اس کے دانت
چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کو دھیرے دھیرے کھاتا ہے
کتنا خیال رکھتا ہے
محمد خلیل الرحمٰن
How doth the little crocodile...