ہادیہ! ویسے موتی چور کہ لڈو کھانے کی بات استعاراً بھی استعمال ہوتی ہے۔ بات تو اُنہی تلوں کی ہو رہی تھی لیکن جب پتہ چلا کہ "ان تلوں میں تیل نہیں ہے" تو دوسرے تلوں کی بات شروع کر دی۔ :)
عائشہ! اب جب بات اہلِ زر اور اہلِ دل والی ہی ہو گئی ہے تو کہیں نہ کہیں سے ایک آدھ تل کا بندوبست کر ہی لیں گے۔ کالے چہروں پر سفید تل اچھا لگے گا میرا خیال ہے۔ :)
K-Electric اور اقبال
پروفیسر عنایت علی خان کی نظم
جب واپڈا والوں سے کہا جا کے کسی نے
یہ کس نے کہا ہے ہمیں راتوں کو سزا دو
بولے ہمیں اقبال کا پیغام ملا تھا
اُٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
اور اُٹھتے ہوئے بَاس نے یہ اور کہا تھا
کاخِ اُمراء کے در و دیوار سجا دو
کاخِ امرا کے کہیں فانوس نہ بُجھ...