دراصل مذکورہ الارم محبت کا نہیں بلکہ سیپریشن کا تھا۔ سو نام اور کام یعنی تاثیر کے تضاد کے باعث سب کنفیوز رہے اور بقولِ غالب جنوں میں جانے کیا کیا ارشاد فرماتے رہے۔ ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ کوئی کچھ نہ سمجھے لیکن کوئی کچھ کچھ سمجھ گیا تو بات یہاں تک پہنچ گئی۔ :) :) :)