دی ہے وحشت تو یہ وحشت ہی مسلسل ہو جائے
رقص کرتے ہوئے اطراف میں جنگل ہو جائے
اے مرے دشت مزاجو یہ مری آنکھیں ہیں
ان سے رومال بھی چھو جائے تو بادل ہو جائے
چلتا رہنے دو میاں سلسلہ دل داری کا
عاشقی دین نہیں ہے کہ مکمل ہو جائے
حالت ہجر میں جو رقص نہیں کر سکتا
اس کے حق میں یہی بہتر ہے کہ پاگل ہو...