غزل
کوئی مژدہ نہ بشارت نہ دعا چاہتی ہے
روز اک تازہ خبر خلق خدا چاہتی ہے
موج خوں سر سے گزرنی تھی سو وہ بھی گزری
اور کیا کوچۂ قاتل کی ہوا چاہتی ہے
شہر بے مہر میں لب بستہ غلاموں کی قطار
نئے آئین اسیری کی بنا چاہتی ہے
کوئی بولے کے نہ بولے قدم اٹھیں نہ اٹھیں
وہ جو اک دل میں ہے دیوار اٹھا چاہتی...