جناب۔۔ بے شک،
واہ کیا کہنے ، مگر قبلہ ! ۔۔۔ بجائے شکر ، یہ شکوہ ؟ ۔۔ چہ معنی دارد ؟
شکوہ اقبال کو ہی روا ہے ، اس کی زبان شکوہ کے حرمت سےواقف ہے ۔
ہمارا تو مسئلہ ہے اب اسے ’’یاوہ گوئی ‘‘ پر محمول کیا جائے یا احوالِ واقعی۔:)
بقول خالد علیگ مرحوم کے :
پالنے ہی سے جو گواہی دے...
عبد اللہ یہ رونے کا مقام ہے ، طنز کا نہیں ، کوئی ہنسی خوشی اپنا سب کچھ نہیں چھوڑ کر جاتا، میری آنکھوں میں ا سوقت بھی آنسو ہیں، ۔۔۔ مقامِ عبرت ہے ، انسان کے لیے