قبلہ ، خوب کہا ، ویسے’’ تہذیبی رویے ‘‘ میں جب آپ کوئی کلام پیش کرتے ہیں تو اس کا ’’ مقدمہ ‘‘ آپ کا ہی احوال ہوتا ہے ۔
خیر اب چونکہ آپ نے ہاتھ کھینچ لیا ہے تو سلیم بیتاب کا شعر یاد آگیا:
بس اتنے ہی جری تھے حریفانِ آفتاب
چمکی ذرا سی دھوپ تو کمروں میں آگئے
( سلیم بیتاب)