ہجرتوں میں تو مرے یار یہی ہوتا ہے
خواب بیچو یا محبت میں خسارہ کر لو
واہ!
اس کے سائے میں امانت ہے کئی نسلوں کی
گرتی دیوار کو مضبوط خدارا کر لو
خوب تلمیح ہے۔
پار کروا کے مجھے اُس نے کہا دریا پار
ڈوبنے والا ہوں میں مجھ سے کنارہ کر لو
واہ ! کنارہ کرنے کا محاورہ خوب جچ رہا ہے یہاں۔
ہمیشہ کی طرح...