مہتاب کی ضو ہو کہ وہ تابانیِ خورشید
ضو کم نہ کسی سے ہو تری محفلِ اردو
ہے دشتِ جنوں، اور رہِ عقل و خرد بھی
پاتا ہے یہاں فیض ہر اک راحلِ اردو
اردو کی اِسی بزم کا اعجاز ہے یہ بھی
سینے میں دھڑکتا ہے مرے جو دلِ اردو
تا حشر تری بزم کا بجتا رہے ڈنکا
غالب رہے اقبال ترا محفلِ اردو