پرانی برقی کتابوں میں، بزم اردو لائبریری بلکہ میری دستخط کی چاروں سائٹس میں دیکھ لیں، بیسیوں تفسیری کتب مل جائیں گی۔ ابھی جلالین کا اردو ترجمہ پوسٹ کیا ہے سات جلدوں میں، جس کا مواد ای قرآن لائبریری سے اخذ شدہ تھا۔ مفت کتب میں مثلاً ساتویں جلد کا ربط
بزم اردو لائبریری میں ساتوں جلدیں
متبادلات تو دونوں ہی ایک درجے کے ہیں، جو بھی چاہو، رکھو
شرمگیں کی جگہ نازنیں ہی بہتر ہو گا
جب ہو ہی گئی ہے غزل تو چلنے دو۔ بقول ظفر اقبال
شعر کچا بھی نکل جاتا ہے
ساری اللہ کی مرضی ہے میاں
پنجند کی سائٹ پر تلاش کی سہولت ہے، وہاں آسی بھائی کا نام ٹائپ کرنے سے ساری وہ کتابیں مل جائیں گی جو انہوں نے اردو کی برقی کتابوں یا بزم اردو لائبریری سے چرائی/حاصل کی ہیں۔ یہی تلاش اردو کی برقی کتابیں اور بزم اردو لائبریری میں بھی کی جا سکتی ہے۔
شرمگیں کا بطور اسم استعمال مجھے درست نہیں لگتا باقی تو غزل درست ہی ہے اگر ردیف تم جو پسند ہی ہو تو! ورنہ
جھے تو 'بولا' سے یہی یاد آتا ہے کہ 'ہم بولے گا تو بولو گے کہ بولتا ہے'
یہ بمبئیا زبان ہے، شاید کراچی کی بھی کچھ ایسی ہی ہے،لیکن فصیح اردو نہیں کہی جاتی۔
ذکر زبان کا کرنے کی اجازت ہو تو کہوں کہ اس لڑی میں نئے نئے الفاظ ایجاد کیے جا رہے ہیں۔ میرے علم کے مطابق ظہیراحمدظہیر کا "ریکن" اور سیما علی کا "طہاری" دو مثالیں یہیں دیکھی جا سکتی ہیں ۔ تیاری ہم تو ت سے لکھتے ہیں شاید گوشت ڈالنے سے طہاری بولنا درست ہو جائے!
مبارک ہو پاکستانیوں کو۔
ویسے ہندوستانی ٹیم بھی بہت اچھی ہے اور اتفاق سے دو میچوں میں خراب کارکردگی کے باعث اس طرح مذاق اڑائے جانے کے قابل تو نہیں بن جاتی!
ویسے یہ فارمیٹ ہی مجھے پسند نہیں، بیس اوورز میں اپنی درست صلاحیت کا مظاہرہ مشکل ہی ہے۔ شاید دو اننگس میں بیس بیس اوورز کے فارمیٹ کا میچ بہتر ہو
پلے بمعنی کتے کے بچے؟ یہ در کے تو نہیں کہے جاتے۔ ہاں، گلی کے کتے یا پلے کا محاورہ ہے
کس گلی کے پِلّوں کو تو نے یوں طیش میں آ کے جھنجھوڑا ہے
بہتر مصرع ہو گا
جیون کی ہوا کی جگہ دنیا کی ہوا ہی کہو