زمیں ایسی منتخب کر لی کہ تمہارا انداز بیان ہی غائب ہو گیا! اس غزل میں قافیہ آرائی ہی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
تمہیں پانے کی کوشش سعئ لا حاصل نہ بن جائے
اُمیدِ وصل کا دریا کہیں ساحل نہ بن جائے
... عجیب مطلع ہے۔ دریا ساحل، اپنا ہی ساحل کس طرح بن سکتا ہے۔ پہلا مصرع اچھا ہے البتہ.۔
دیارِ میؔر و غالبؔ...