ہمیں تو بہت صدمہ ہوا تھا اس بات سے کہ زرداری جیسا عیار و مکار آدمی پاکستان کا صدر بن رہا ہے۔
الطاف حسین صاحب کی زبانی انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا کہ صدر وہ خود بننا چاہ رہے ہیں۔
ہاہاہاہا۔۔۔!
اتنے تو فرض شناس ہیں نا یہ پاکستانی حکمران کہ بس یاد دہانی کافی ہو۔
یہاں تو لوگ سڑکوں پر سسک سسک کر جان دے دیتے ہیں اور ان لوگوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔
نظریاتی لوگ ،ایم کیو ایم تو کجا اب کسی بھی جماعت میں نہیں رہے۔
مہاجروں کا براہِ راست اختلاف پنجابیوں سے تو شاذ ہی کبھی ہوتا ہے ۔ ان کے مسائل پپلز پارٹی کے ساتھ ہی رہے ہیں۔
محمد بلال لائقِ صد ستائش ہیں اور ان کے علاوہ بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اردو کی خدمت میں پیش پیش رہے ہیں۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ایم کیو ایم پہلی اور دوسری بات اقتدار میں آئی تھی ۔ پاکستان کی سیاست ایسی سفاک ہے کہ یہاں قائم رہنے کے لئے پاور پالیٹیکس کے بغیر گزارا نہیں ہے۔ ایم کیو ایم کو پہلے سروائیول کا مسئلہ تھا اور پھر یہ بعد میں دوسروں کے لئے سروائیول کا مسئلہ بن گئی۔
بھان متی کا کنبہ مل کر الیکشن جیت بھی لے تو بعد میں اختیارات کی بندر بانٹ کس طرح سے ہوگی۔
خادم رضوی صاحب کے سامنے کوئی اور تو ٹک نہیں سکے گا اور اگر ان کو اگر کوئی عوامی عہدہ مل گیا تو پھر تو ۔۔۔۔۔ خاکم بدہن :)
جماعتِ اسلامی میں بہت سی خوبیاں ہیں۔
پاکستان کی واحد جمہوری جماعت ہے، جس میں امیر کا انتخاب الیکشن سے ہوتا ہے۔
کرپشن کے الزامات ان پر بالکل بھی نہیں ہیں۔
عوامی مسائل پر بات کرنے میں جماعتِ اسلامی سب سے آگے ہوتی ہے۔
کراچی میں تعلیمی سرگرمیوں میں بہت کام کرتی ہے۔
ایم کیو ایم بھی ایک زمانے...