مطلع دوم
آزارِ محبت میں یہ کام تو ہونا تھا
بدنام ہو کے عاشق کا نام تو ہونا تھا
ہُکے تقطیع ہوتا ہے "ہو کے"، و کا اسقاط گوارا نہیں کیا جا سکتا
پہلا مصرع مبہم بلکہ بے معنی لگتا ہے
دونوں ٹکڑوں میں ربط نہیں
یہ بحر دو ٹکڑوں میں منقسم ہے، اس لئے ہر ٹکڑے میں بات مکمل ہونا چاہیے، ویسے کسر اضافت کے...
یرا مشورہ ہےکہ اس مکمل غزل کو خود ہی پھر سے دیکھیں۔ روانی اور مفہوم دونوں اعتبار سے، مثلاً
کون جان لیتا ہے، محبت یا دنیا؟ جان لینا مراد قتل کرنا بھی لیا جاسکتا ہے
پہلے دو مصرعوں میں ایطا کا عیب بھی ہے
اگر چارہ گر کو واحد بھی لایا جائے تو تیرے مریض فرقت کی ترکیب کچھ درست نہیں لگ رہی، مریض کے ل یا تو تیرا/تمہارا وغیرہ ضمیر اختیار کی جائے یا مرض سے تعلق کی، مریض فرقت/محبت وغیرہ
لجائی کے معنی تو درست ہیں، شرمائی، لیکن استعمال غلط ہے
لجائی دینا، اور وہ بھی صورت کا، محاورہ نہیں
آمد پر اس کی ، زخم ہیں کیا کہہ رہے ہیں مرے
.. آمد پر اس کی، زخم ہیں کیا مجھ سے کہہ رہے
بہتر ہو گا
رگ رگ میں پھیل جاؤں گا میں خون کی طرح
بہتر متبادل ہے، پہلا تو وہی ے کے اسقاط کے ساتھ غلط ہے
مقطع...
تم نے بھی دو غزلے شروع کر دئے مقبول کی طرح؟
اک بچّے کی معصوم سی دو انگلیوں کے بیچ
اس کی بنت اچھی نہیں، ترتیب یا الفاظ بدل کر دیکھو
غصّے کے مضرّات ہیں کیا ، کوئی کسی کو
مصرع میری عقل سے بالا تر ہے، مضرات کا تلفظ؟
باقی اشعار درست ہیں
اشرف علی کے مشورے کے علاوہ مجھے ان دونوں مصرعوں میں 'اے خدا" " اِخدا" تقطیع ہونا درست نہیں لگ رہا
تُو پاک ہے اے خُدا پاک نام تیرا ہے
اور
بنا ہُوا اے خُدا یہ نظام تیرا ہے
پہلا مصرع یوں ہو سکتا ہے
خدایا پاک ہے تو، پاک نام....
دوسرا
مرے خدا، یہ مکمل نظام....
اس کے علاوہ
نبی کا واسطہ مجھ کو بھی...
مطلع میں تو سمجھ نہیں سکا، لجائی کن معنوں میں؟
ٹھیک ہے
یہ غلطی تمہارے لیے بہت عام ہو گئی ہے کہ ے جا بڑی بے دردی سے اسقاط کرتے ہو!
درست
درست
یہ دوسری غلطی. ہو کو ہُ تقطیع کرنا
یہ کچھ دو لخت لگ رہا ہے