نتائج تلاش

  1. الف عین

    بے آبُرو چاہت کو سرِ شام تو ہونا تھا غزل نمبر 130 شاعر امین شارؔق

    مطلع دوم آزارِ محبت میں یہ کام تو ہونا تھا بدنام ہو کے عاشق کا نام تو ہونا تھا ہُکے تقطیع ہوتا ہے "ہو کے"، و کا اسقاط گوارا نہیں کیا جا سکتا پہلا مصرع مبہم بلکہ بے معنی لگتا ہے دونوں ٹکڑوں میں ربط نہیں یہ بحر دو ٹکڑوں میں منقسم ہے، اس لئے ہر ٹکڑے میں بات مکمل ہونا چاہیے، ویسے کسر اضافت کے...
  2. الف عین

    طبع زاد اشعار کی بیت بازی

    گانا نہ گائے تو بھلا فرہاد کیا کرے جو اس سے بات کر سکے، جنگل میں کون ہے؟
  3. الف عین

    دل سے تجھ کو ہے مرے یار بھلانا مشکل

    یرا مشورہ ہےکہ اس مکمل غزل کو خود ہی پھر سے دیکھیں۔ روانی اور مفہوم دونوں اعتبار سے، مثلاً کون جان لیتا ہے، محبت یا دنیا؟ جان لینا مراد قتل کرنا بھی لیا جاسکتا ہے
  4. الف عین

    رباعی برائے اصلاح

    پہلے دو مصرعوں میں ایطا کا عیب بھی ہے اگر چارہ گر کو واحد بھی لایا جائے تو تیرے مریض فرقت کی ترکیب کچھ درست نہیں لگ رہی، مریض کے ل یا تو تیرا/تمہارا وغیرہ ضمیر اختیار کی جائے یا مرض سے تعلق کی، مریض فرقت/محبت وغیرہ
  5. الف عین

    برائے اصلاح - تیری یادوں سے تیرہ ماضی کا

    مطلع مجھے تقابل قبول لگ رہا ہے، دو لختی کا عیب اتنا نا گوار نہیں باقی تو اب غزل مکمل ہو ہی گئی، الحمد للہ، میری ضرورت نہیں ہے یہاں اب۔
  6. الف عین

    محبت اپنا شوقِ نارسا تھی

    درست ہو گئی ہے غزل
  7. الف عین

    نظم: "ڑ" حرفِ تہجی

    کہ بے گانہِ فردا و ہست ہے یہ مفہوم کے لحاظ سے غلط ہے، ہست کے ساتھ اس کا اپوزٹ نیست لایا جاتا ہے، فردا کے ساتھ تو امروز کا محل ہو گا نا!
  8. الف عین

    برائے اصلاح: یا تُو خُدا کسی کو نہ صورت لجائی دے

    لجائی کے معنی تو درست ہیں، شرمائی، لیکن استعمال غلط ہے لجائی دینا، اور وہ بھی صورت کا، محاورہ نہیں آمد پر اس کی ، زخم ہیں کیا کہہ رہے ہیں مرے .. آمد پر اس کی، زخم ہیں کیا مجھ سے کہہ رہے بہتر ہو گا رگ رگ میں پھیل جاؤں گا میں خون کی طرح بہتر متبادل ہے، پہلا تو وہی ے کے اسقاط کے ساتھ غلط ہے مقطع...
  9. الف عین

    غزل برائے اصلاح : جب بھی کوئی شرمائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

    تم نے بھی دو غزلے شروع کر دئے مقبول کی طرح؟ اک بچّے کی معصوم سی دو انگلیوں کے بیچ اس کی بنت اچھی نہیں، ترتیب یا الفاظ بدل کر دیکھو غصّے کے مضرّات ہیں کیا ، کوئی کسی کو مصرع میری عقل سے بالا تر ہے، مضرات کا تلفظ؟ باقی اشعار درست ہیں
  10. الف عین

    جہاں میں ذِکر خُدا صُبح و شام تیرا ہے غزل نمبر 129 شاعر امین شارؔق

    اشرف علی کے مشورے کے علاوہ مجھے ان دونوں مصرعوں میں 'اے خدا" " اِخدا" تقطیع ہونا درست نہیں لگ رہا تُو پاک ہے اے خُدا پاک نام تیرا ہے اور بنا ہُوا اے خُدا یہ نظام تیرا ہے پہلا مصرع یوں ہو سکتا ہے خدایا پاک ہے تو، پاک نام.... دوسرا مرے خدا، یہ مکمل نظام.... اس کے علاوہ نبی کا واسطہ مجھ کو بھی...
  11. الف عین

    محبت اپنا شوقِ نارسا تھی

    درست ہو گئی ہے غزل یہی بس ضابطہ و قاعدہ تھی یا یہ اک ایسا انوکھا ضابطہ تھی .. یہ اپنی ذات میں اک قاعدہ/ضابطہ تھی یہ کیسا رہے گا؟
  12. الف عین

    نظم: "ڑ" حرفِ تہجی

    یہ ڑ ہی کیوں، ہر حرف اپنی ذات میں انجمن ہے! غزل کے فارمیٹ کے اشعار ہیں، اس لئے اس لحاظ سے اس میں ایطا کا عیب ہے باقی اشعار درست ہیں
  13. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    ثمرین تو کبھی آتی نہیں، اسے آواز دینے کا فائدہ؟
  14. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    سستے زمانے میں بھی ہر دو سال پر گاڑی بدلنے والے رہے ہوں گے۔
  15. الف عین

    برائے اصلاح: یا تُو خُدا کسی کو نہ صورت لجائی دے

    مطلع میں تو سمجھ نہیں سکا، لجائی کن معنوں میں؟ ٹھیک ہے یہ غلطی تمہارے لیے بہت عام ہو گئی ہے کہ ے جا بڑی بے دردی سے اسقاط کرتے ہو! درست درست یہ دوسری غلطی. ہو کو ہُ تقطیع کرنا یہ کچھ دو لخت لگ رہا ہے
  16. الف عین

    محبت اپنا شوقِ نارسا تھی

    مزید یہ کہ یہی قانون تھی اور قاعدہ تھی دونوں جگہ' تھی' کچھ نا گوار لگ رہا ہے، کچھ سوچو اس کا بھی، درمیان میں 'اَر' بھی کچھ مناسب نہیں
  17. الف عین

    برائے اصلاح: اپنوں سے جُدا میں ہوا جس یار کی خاطر

    درست ہیں اشعار ، مقطع کا دوسرا متبادل بہتر ہے
  18. الف عین

    غزل برائے اصلاح : مِس کال کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

    درست ہے غزل، ہلو ہائے نکالنے کے بعد!
  19. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    خدا نہ کرے کہ ایسی حالت ہو جائے کہ اپنی ہی زبان قابو میں نہ رہے!
Top