میرا خیال ہے کہ ایسا محاورتاً کہا جاتا ہے۔ اور محاورے میں اس قسم کی تبدیلی کی اجازت نہیں ہوتی۔
جیسے ہم کہتے ہیں کہ "بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی"۔ اسے ہم بکرے کی ماں کے بجائے بکرے کا باپ نہیں کر سکتے۔
غالباً آخری ٹیسٹ میچ کے زیرِ خمار یہ بات کہی گئی ہے۔ :)
مغلوں کا شغل بنانے والے یاد رکھیں کہ مغل دراصل منگولوں کو عربیانے کے شوق میں وقوع پذیر ہوئے ہیں اور اُنہیں اپنی پرانی روش پر لوٹتے وقت نہیں لگے گا۔
جو مزاجِ یار میں آئے۔
آخری دو الفاظ سے گمان ہوتا ہے کہ شغلِ ھذا کی ذمہ داری کسی اور...
ہماری درخواست ہے کہ درج ذیل لوگوں کا انٹرویو بھی ضرور کیا جائے۔
- محمد وارث
- فلک شیر
- نیرنگ خیال
- ظہیر احمد ظہیر
- محمد یعقوب آسی
- یاز
- محمد عباد اللہ (ادارہ)
- فرقان احمد
- سید عمران
- حمیرا عدنان
- ہادیہ
اور
- نور سعدیہ۔