یعنی مختصر یہ کہ اگر پاکستان کو سیکولر ریاست بنا دیا گیا تو بین الاقوامی طاقتوں اور خود پاکستانیوں کو سکون ملے گا اور اگر نہ بنایا گیا تو حالات مزید خراب تر ہوتے چلے جائیں گے۔
درست؟
غزل
ہم یوں تمہارے پاؤں پہ اے جانِ جاں گرے
جیسے کسی غریب کا خستہ مکاں گرے
مانا کہ اے ہوا تُو نہیں گن سکی مگر
دیکھا تو ہوگا پات کہاں سے کہاں گرے
پہلے ہی زخم زخم ہے دھرتی کا انگ انگ
پھر کیا ضرور ہے کہ یہاں آسماں گرے
یُوں صحنِ تیرگی میں پڑی چاند کی کرن
جیسے خموش جھیل میں سنگِ گراں گرے
ہم قیسؔ ،...
بے احتیاطی بھی چلیے چل جاتی ہے کہ جیسے ہی خیال آیا آپ نے سوئچ آف کر دیا۔ لیکن جو لوگ اس بات کو اہمیت ہی نہیں دیتے یا یہ کہتے ہیں کہ بھائی ہم بل دیتے ہیں یا یہ کہتے ہیں کہ ہمارے بچانے سے کیا فرق پڑ جائے گا۔ ایسے لوگوں کو اپنا رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
ہما رے بچپن میں محلے کی ایک عورت کا میاں نان پکوڑے کی ریڑھی لگاتا تھا۔ کسی دن اس کی خوب بکری ہوتی اور کوئی دن بہت مندا رہتا۔ جس دن خوب بکری ہوتی، اس دن ان کے ہاں چکن یا مٹن کڑاہی بنتی، ساتھ میں سوڈا کا اہتمام ہوتا اور کھانے کے بعد بڑا لڑکا بھاگ کر موٹر سائیکل نکالتا اور آئس کریم کا بڑا پیک لے...
زبردست!!!
اندازہ ہوتا ہے کہ محفل میں ہمہ وقت جو روبوٹ مشکوک سرگرمیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں اُن میں سے ایک ، آپ ہیں۔
حیرت ہے کہ اتنی کم گھلنے ملنے والی شخصیت کیسے ہر شخص کو اتنا زیادہ جان سکتی ہے۔ بہت اچھی فہرست مرتب کی آپ نے۔
ہاہاہاہاہا۔۔۔!
یہ کام ہم جیسے لوگوں کے لئے تھا کہ سرورق دیکھ کر رائے قائم کی جائے ۔
اوپر کی تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ تو بنی بنائی فکشن رائٹر ہیں ۔ اپنی کتاب لکھیے اور سرورق ہمارے حوالے کر دیجے۔ :) :) :)