فرشِ پیغمبر کہاں اور مسجد کوفہ کہاں
کیا ضروری ہے جو کہیے واقعاتِ درمیاں
کروٹوں پہ کروٹیں لیتا رہا دَورِ جہاں
خون سے رنگیں نظر آتی ہے ساری داستاں
مکر کے سکّے چلے پھر دین کے بازار میں
پھر منافق غرق دیکھے نشہ پندار میں
کشتی اسلام کو جس نے تر ایا وہ علی
منتشر ہونے سے قرآں کو بچایا وہ علی
جز خدا دنیا جو خاطر میں نہ لایا وہ علی
جو بڑی مشکل میں دیں کے کام آیا وہ علی
شامِ ہجرت دوسرا تھا کون حیدر کی طرح
فرشِ پیغمبر پہ جو سوتا پیمبر کی طرح