اب امامت اور خلافت تھی حسن کے واسطے
چھ مہینے تک ستم سب قلبِ شبّر نے سہے
ہر قدم پر تھی بغاوت ہر قدم پر مرحلے
یہ انہیں منظور کب تھا خون امت کا بہے
خُلق کے پانی سے دھو ڈالا دلوں کے میل کو
صلح کے پُشتے سے روکا پھر لہو کی سیل کو
بند، روباہوں کو جب شیر خدا نے کر دیا
ظلم نے پھر اک رگِ اسلام پر نشتر دیا
دین حق کے واسطے سینوں میں کینہ بھر دیا
گمرہی کو ابن ملجم کا نیا پیکر دیا
اور رقت بڑھ گئی سوز و گداز فجر میں
شیر خدا پر ہو گیا حملہ نماز فجر میں