رَزم گہ میں خطبہ شبیر کی گونجی صدا
لفظ جو آیا زباں پر تیر و خنجر بن گیا
کان اپنے بند کیا کرتا گروہِ اشقیا !!
ضربتِ الفاظ سے ہر سنگ دل رونے لگا
آیتیں قرآن کی اور ابنِ حیدر کی زباں
معجزہ الفاظ کا سبطِ پیمبر کی زباں
سب سے رخصت ہوکے زینب کی طرف آئے امام
وہ بہن قربان جس نے کر دیے دو لالہ فام
جس کے ذمے ہے حَرم کی آبرو کا اہتمام
کہہ نہ پائی جو زباں وہ کر دیا اشکوں نے کام
نطق اپنا جلوہ اوّل دکھا کر رہ گیا
لفظ رخصت لب پہ آیا تھرتھرا کر رہ گیا
اب فقط شبیر ہیں یا عابدِ بیمار ہیں
یہ ضعیف و تشنہ لب ہیں اور وہ ناچار ہیں
بیبیاں ہیں سر نگوں خاموش ماتم دار ہیں
سیدہ کے لال کی رخصت کے اب آثار ہیں
اکبر و قاسم نہیں، پیر و جواں کوئی نہیں
شمع ہے، پروانہ آتش بجاں کوئی نہیں
عصر تک دسویں محرم کو رہی جنگ و جَدال
ناصرانِ شاہ نے دادِ شجاعت دی کمال
ہو گئے قربان عزیزانِ گرامی خوش خصال
توڑ ڈالے ظلم و استبداد کے ہمت سے جال
منہدم کر دِیں خیالی جنّتیں شدّاد کی
صبر نے جڑ کھود ڈالی منزلِ بیداد کی
ایک طرف صبحِ سعادت، ایک طرف افواجِ شام
ایک جانب نورِ پیکر، ایک جانب تِیرہ نام
ایک سمت آزاد فطرت، ایک سُو زر کے غلام
ایک طرف مطلق اُجالا، اِک طرف ظُلمت تمام
تھا اُدھر کوفے کا لشکر کثرتِ تعداد تھی
اِس طرف حق تھا رسول اللہ کی اولاد تھی
جاں نثاری پر کمر باندھے ہوئے انصارِ شاہ
موت کا غم تھا کسی کو اور نہ جینے پر نگاہ
یہ وہ غازی تھے کہ جن سے ظلم نے مانگی پناہ
صبر کے عنوانِ روشن، دعوتِ حق کے گواہ
بَر ملا باطل کو کہتے تھے بُرا ، جی کھول کر
لفظ کو پہلے پرکھتے تھے لبوں پر تول کر
کاروانِ نور ہے دشتِ بلا میں خیمہ زن
رحمتِ یزداں ہر ایک کے سر پر ہے سایہ فگن
سب عماموں کی جگہ باندھے ہوئے سر سے کفن
ہم زباں و ہم نوا و ہم خیال و ہم سخن
لفظ بکھرے تھے مگر جُملے میں مل کر ساتھ ہیں
اک شمع حق ہے پروانے بہتّر ساتھ ہیں
جس بیاباں میں قدم پہنچے گلستاں ہو گیا
دشتِ ویراں روکش گلزارِ رضواں ہو گیا
نکہتِ ایماں سے جنگل عنبر افشاں ہو گیا
پڑ گئی اِک رُوح ہر تنکا رگِ جاں ہو گیا
جی اٹھے مُردے عجب اعجاز تھے پیغام کے
قسم باذن اللہ لب پر عیسٰئ اسلام کے
منزلوں پر منزلیں طے کر رہا ہے قافلہ
ختم ہوتا جا رہا ہے قُربِ حق کا فاصلہ
کِس ثبات و شکر سے گزرا ہے ہر اِک مرحلہ
مرضئ معبود کی دُھن ذکرِ حق کا مشغلہ
اپنے سینوں میں لیے سب دولتیں ایمان کی
ہر نفس کے ساتھ لب پر آیتیں قرآن کی
یوں چلے جیسے چلے ابر رواں صحرا کی سمت
جو قدم اٹھا وہ اٹھا مرضئ مولا کی سمت
دیکھتے ہی رہ گئے سب سید والا کی سمت
جانے والوں نے نہ دیکھا مُڑ کے بھی دنیا کی سمت
صبر کی جو حدِّ آخر تھی وہ تھی حد سامنے
اب فقط تھی آبروئے دینِ احمد سامنے
مشورے کچھ اور تھے منشائے قدرت اور تھا
فکرِ دنیا اور تھی پاسِ رسالت اور تھا
اس عبادت کے سوا طرزِ عبادت اور تھا
یہ جماعت اور تھی فرضِ امامت اور تھا
چاہنے والے کفِ افسوس ملتے ہی رہے
چلنے والے کربلا کی سمت چلتے ہی رہے
دوستوں نے آ کے سمجھایا یہ کیا کرتے ہیں آپ
موت کے رستے پہ دانستہ قدم دھرتے ہیں آپ
ہیں جری ابن جری، مانا نہیں ڈرتے ہیں آپ
زندگی ارزاں نہیں بے فائدہ مرتے ہیں آپ
آپ کیا عُہدہ براہوں گے اُن اہلِ شر کے ساتھ
کُوفیوں نے کیا کیا تھا حیدر و شبّر کے ساتھ
وہ علی کی شیر دل بیٹی، وہ ثانئ بتول
صفحہ ہستی پر نقش غیر فانئ بتول
بھائیوں کی لاڈلی، زندہ نشانئ بتول
یاد تھا قرآن سب جس کو زبانئ بتول
چھوٹ جاتی وہ بہن کیسے بھلا شبیر سے
پرورش پائی تھی جس نے فاطمہ کے شِیر سے