نادم جو بہت دل میں تھا اپنے حُرّ جانباز
خود خدمت شبیر میں آ کے ہوا ممتاز
قسمت سے شہادت کا ملا اس کو جو اعزاز
فردوس میں انجام تھا دوزخ میں تھا آغاز
یہ جرات ایماں بخدا یاد رہے گی
اس پاک ضمیری کی ادا یاد رہے گی
وہ شب معراج حد ارتقائے بندگی
وہ حضور خالق کُل سجدہ ہائے بندگی
وہ عطائے بیکراں وہ ادعائے بندگی
وہ خدائی کی حکومت زیر پائے بندگی
اک بشر کو دہر کی فرماں روائی مل گئی
بندگی نے سر جھکایا اور خدائی مل گئی
وہ حطیم کعبہ سے عرش الہی کا سفر
شیشہ صافی سےجیسےپار ہوجائےنظر
ساتھ میں روح الامیں باندھے ہوئے اپنی کمر
عرض کی، اک حد پہ محبوب خدا کو چھوڑ کر
آپ تو ہیں نور، عین نور میں ڈھل جائیں گے
بال بھر آگےبڑھوں گا میں تو پر جل جائیں گے
اس سمت یہ ہنگامہ یہ آشوب یہ ہلچل
بڑھتی ہوئی افواج کی تعداد مسلسل
خونریزی و غارت کے تھے سامان مکمل
اس سمت بنا قبلہ حق کی سر مقتل
ہر شخص ادھر کوشش دنیا طلبی میں
اس سمت سکوں قافلہ آل نبی میں
نوع انساں کا معلم صاحب ام الکتاب
صفحہ ہستی پہ جس نے لکھ دیا وحدت کا باب
کشت ویران جہاں پر جیسے رحمت کا سحاب
جلوہ خالق نظر سے جس نے دیکھا بے حجاب
چرخ ہفتم اصل میں اک فرش نعلیں اس کا تھا
عرش اعلی پر مقام تاب قوسیں اس کا تھا
جب وہ بولاشاعروں کی سب طلاقت چھن گئی
جو فصیح العصر تھے ان کی فصاحت چھن گئی
جو قوی بازوتھے ان کی ساری قوت چھن گئی
طالب تعظیم مغرورں کی نخوت چھن گئی
جام کوثر بھر گئے سب تشنہ کاموں کےلیے
آگیا فرمان آزادی غلاموں کے لیے
وہ ہوا پیدا تو بت خانوں میں آیا زلزلہ
ہوگیا ٹھنڈا ہزاروں سال کا آتشکدہ
کج رووں کومل گیا منزل کاسیدھا راستہ
ہوش میں آنے لگا دنیا کا ہروحشت زدہ
تہلکہ برپا ہوا سنگیں دلوں کی بزم میں
دست بستہ علم آیا جاہلوں کی بزم میں
وہ اماموں کاامام اور وہ رسولوں کارسول
گلشن تقدیس کا مہکاہوا شاداب پھول
جس نے تازہ کردیئے احکام قدرت کے اصول
جس پہ کرنوں کی طرح آیات مصحف کا نزول
امن اور تہذیب کا عنوان جس کی زندگی
چلتاپھرتا بولتا قرآن جس کی زندگی
تھا محمد لفظ اول دفتر کن پر رقم
ہوگئے تخلیق جس کے واسطے لوح و قلم
جس کی ترتیب مجلی ہے بہ اعزاز و حشم
حرف ساکن حمد کا اس میں مشدد ہے بہم
معجزہ ہے ذات کا یا منزل الہام ہے
دفتر اسمائے عالم میں یہ پہلا نام ہے
وہ محمد حمد خالق جس کا شغل مستقل
موج باری جس کا سینہ عرش اعظم جس کا دل
جس کےصدقے میں ہوئی برپا یہ بزم آب و گل
عدل جس کی زندگانی جس کی فطرت معتدل
منصفی کا بول جس سے دہر میں بالا ہوا
نور مطلق قالب انصاف میں ڈھالا ہوا