وہ یتیمِ کعبہ ، وہ سارے یتامٰی کا کفیل
لفظ جس کے رودِ کوثر جس کی باتیں سلسبیل
آرزوئے یوسف و یعقوب و عیسٰی و خلیل
وہ وجودِ خالقِ واحد کی اک محکم دلیل
فکرِ انسانی کے بل جس نے نکالے وہ رسول
جس نے ذہنی بُت زباں سے توڑ ڈالے وہ رسول
آمنہ کی گود میں روشن تھا کعبے کا چراغ
منزلِ ظلمات میں توحید کا پہلا چراغ
روشنی جس کی ازل سے تا ابد ایسا چراغ
ہو گیا ہر ایک قصرِ جہل کا ٹھنڈا چراغ
لَو بڑھی ایسی محمد مصطفےٰ کے نام کی
روشنی ہر سمت پھیلا دی خدا کے نام کی
وہ نہالِ دیں جو تھا سرمایہ خیرالبشر
جس کی نزہت امن اور وحدانیت جس کا ثمر
جس کے سائے میں تر و تازہ ہوئے علم و ہُنر
جس کے متوالوں نے دنیا جیتی بے تیغ و سپر
وحشتیں جس کی ہوا سے عقل ساماں ہو گئیں
جس کی نکہت سے فضائیں عنبر افشاں ہو گئیں
برچھی کی انی پر بنِ کامل نے رکھی دھار
پیکانِ ستم حُرملہ کرتا رہا تیار
خود شمر بدلتا رہا تلوار پہ تلوار
فہرست بنی کس پہ کرے کون کہاں وار
مشقِ ستم و جور میں دوڑائے گئے تھے
گھوڑوں کے نئے نعل بدلوائے گئے تھے
اشرار کے لشکر میں کچھ اس طرح کٹی رات
جانچے گئے، پرکھے گئے سب جنگ کے آلات
تیغ و تبر و تیر و سناں دیکھ کے بدذات
کہتے تھے کہ اس جنگ کی ہے فتح کوئی بات
دس بیس جواں لشکرِ شاہی سے نکل کے
رکھ دیں گے نبی زادوں کو دَم بھر میں کُچل کے
خیموں میں تھے سب اہلِ حَرم محوِ تلاوت
بس دیکھ لیا کرتے تھے شبیر کی صورت
غم بے وطنی کا نہ کوئی شکوہ غربت
تھا شکرِ خدا لب پہ جو سہتے تھے اذیت
اِس صبر کو اربابِ فلک دیکھ رہے تھے
حیران اجنّہ تھے ملک دیکھ رہے تھے
تھا چاروں طرف ظُلمت و باطل کا اندھیرا
تابندہ تھا سُورج نہ چراغوں میں اُجالا
تاریک جو دل تھے تو نظر آتا بھلا کیا
وہ ارضِ بلا عرصہ ظلمات تھی گویا
بس اتنی زمیں جس پہ خیام شہِ دیں تھے
انوار کے آثار اگر تھے تو وہیں تھے
جہل میں صدیوں سے تھی ارضِ عرب بھی مبتلا
ختم ہوتا ہی نہ تھا جوشِ جنوں کا سلسلہ
اُس بیاباں میں گُلِ وحدانیت آخر کُھلا
لفظِ واحد جس سے پہلی بار دُنیا کو ملا
منکروں کے لب سِلے یارا نہ تھا تردید کا
پتھروں میں بو دیا اُس نے شجر توحید کا
سیم و زر کے جال تھے ہر دور میں وجہ جمود
جن میں تھے پابند مدت سے نصاریٰ و یہود
تھے گوارا خود اسیروں کو یہ اسلوبِ قیود
رد نہ اب تک کر سکا جس کو نبیوں کا ورود
مسخ کر کے رکھ دیا پیغمبری قانون کو
اپنے ہی الفاظ میں ڈھالا تھا ہر مضمون کو
یہ سنا تھا حکمِ خالق ہو رہا ہے پائمال
سنتِ پیغمبری کی پیروی ہے اب محال
ہے جمالِ حق پہ غالب زعمِ شاہی کا جلال
سلب ہے اب فسق سے انکار کرنے کی مجال
کون دیکھے آج کل انسان ہیں کس حال میں
قید ہیں آزاد بھی اب سیم و زر کے جال میں
کچھ جوانانِ قریشی، چند بچے، بیبیاں
جنگ کا سامان تھا کوئی نہ عزمِ خوںچکاں
دین و ایماں کی حفاظت، صُلح کل دردِ زباں
پشت پر قبرِمحمد سامنے باغِ جناں
ایک پیغامِ محبت امنِ عالمگیر کا
تھا علم میں ایک پھریرا چادرِ تطہیر کا
چھائے تھے ہر اک سمت جو افواج کے بادل
صبحِ شبِ عاشور بھی تاریک تھا جنگل
تھے گشت پر مامور جو دشمن کے ہراول
اڑتی ہوئی مٹی سے ہوائیں بھی تھیں بوجھل
ساحل پہ سپیدی کا کہاں نام و نشاں تھا
پانی نہ تھا دریا میں سیہ ناگ رواں تھا
کوفیوں کے وعدہ باطل پہ کر کے اعتبار
چھوڑ کر بیمار بیٹی کو مدینے میں نزار
گھر سے نکلا تھا کہ رکھے دینِ احمد کا وقار
چاہتا یہ تھا رہے قرآن و سنّت کا وقار
مومنوں کے سر پہ کوئی جابرِ مطلق نہ ہو
دین پر آئے نہ زد قرآن کا دل شق نہ ہو
وہ علی کا لاڈلا وہ فاطمہ کا نورِ عین
قلب عالم کی تسلی خاطرِ زینب کا چین
وہ حسینِ لالہ رُخ منبر کی جس سے زیب و زین
وہ حَسن کا نقشِ ثانی نام تھا جس کا حُسین
حُسن جس کے رُوئے روشن کی بلائیں لیتا تھا
خود جسے اسلام جینے کی دُعائیں دیتا تھا
تجھ پہ اترا تھا کبھی آل نبی کا قافلہ
تھا مدینے سے یہاں تک نور کا اک سلسلہ
یاد تو ہو گا تجھے صبر و رضا کا مرحلہ
حق و باطل کا ہوا تھا تیرے گھر میں فیصلہ
تو نے دیکھے ہیں کرشمے گردشِ ایّام کے
تیرے ہی صحرا پہ گھر آئے تھے بادل شام کے
آج تک پھیلی ہے تجھ میں چار سو اک روشنی
روکشِ اوجِ فلک ہے روضہ سبطِ نبی
ایک اک ذرے میں لہریں لے رہی ہے زندگی
استراحت کر رہی ہے تجھ میں اولادِ علی
دامنِ دریا پہ خاکِ آستیں جھاڑے ہوئے
شیر اک ساحل پہ سوتا ہے علم گاڑے ہوئے
ہر چند کہ سب لوگ کئی دن سے تھے پیاسے
اظہار نہ کرتے تھے امامِ دوسَرا سے
خیموں میں حَرم دیتے تھے اک اک کو دلاسے
ہر ایک نے لَو اپنی لگائی تھی خُدا سے
بدلی ہوئی دنیا کی ہوا دیکھ رہے تھے
سب عزمِ امامت کی ادا دیکھ رہے تھے
چارآئینہ و خود و زرہ کچھ بھی نہ تھا پاس
آلام کا غم تھا نہ ذرا موت کے وسواس
تکبیر کی مانند نکلتے ہوئے انفاس
چھایا ہوا بس اُلفتِ شبیر کا احساس
جاں نذر کو لائے تھے امامِ ازلی پر
نکلے تھے فدا ہونے حسین ابنِ علی پر
شبیر کے تھے ساتھ جو انصار وفا خو
دُنیا کے معائب سے بچائے ہوئے پہلو
ہمت میں کسی کی بھی نہ تھا فرق سرِ مُو
ہر پُھول جُدا، سب میں مگر ایک سی خوشبو
اس شان کے گُل دہر نے دیکھے نہ سُنے تھے
شبیر نے خود باغِ محبت سے چنے تھے
کربلا ہے تجھ سے کتنی دُور وہ نہر فرات
جس کے پانی سے رہی محروم مظلوموں کی ذات
تشنگی جس سے بجھاتی تھی سپاہِ بد صفات
موت تھی سیراب جس سے اور پیاسی تھی حیات
تر نہ اپنے لب کئے اک صاحبِ احساس نے
جس کے ساحل پر تیمم کر لیا عباس نے