ہادی انسانیت، اخلاقِ کامل کے نشاں
اے انیس بے کساں ، اے حامی بےچارگاں
بندگی ماسوا سے تو نے بخشی ہے اماں
آدمیت پر ترے الطاف ہیں کیا بیکراں
مرضی معبود جس سے آ گئی تھی جوش میں
مرتضٰی نے پرورش پائی تری آغوش میں
نعرہ وہ تھا شبیر کا یا صورِ سرافیل
اَرواحِ سپہ جسموں میں ہونے لگیں تحلیل
دونوں نے جو کی شاہ کے احکام کی تعمیل
باطل کے دیئے بجھ کے جَلی صدق کی قندیل
میداں میں کوئی دشمنِ اسلام نہیں تھا
تا دُور سیاہی کا ذرا نام نہیں تھا
انکارِ رسالت ہے؟ تو ہو جنگ پہ تیار
ہاں برق صفت چل تو سہی اے مرے رہوار
ہاں میسرہ و میمنہ و قلب سے ہو پار
ہاں نیام سے باہر تو نکل اے مری تلوار
اس دشتِ بلا کو کرہ نار بنا دے
جوہر جو نہاں تجھ میں ہیں وہ آج دکھا دے
مجھ سے مرے نانا نے کہا لحمک لحمی
اس قول میں ہیں دمک دمی کے بھی معنی
کچھ پاس نہیں قولِ محمد کا ذَرا بھی
حرمت نہیں کیا قلب میں کچھ خونِ نبی کی
لینا ہے جو اب آج مجھے تم سے اسی کا
کیا خون بہانا ہے تمہیں اپنے نبی کا
لشکر کے قریب آ گئے جب شاہِ خوش انجام
فرمایا کہ درپے ہو مرے کیوں سپہِ شام
سب جانتے ہیں پھیلا ہے گھر سے مرے اسلام
ہے سنت و قرآں کے مطابق مرا ہر کام
فرزند علی کا ہوں جگر بندِ علی ہوں
جو دُودھ سے زہرا کے پلا ہے میں وہی ہوں
ہے کون جو اس شیر کے ہو مدِّ مقابل
آسان نہیں سامنا یہ سخت ہے مشکل
دَم بھر میں سجی جاتی ہے اب موت کی محفل
گوشے سے نکل حُرملہ، چل اے بنِ کاہل
چلّے پہ ذرا پھر سے چڑھا تیرِ جفا کو
نیزے کے دکھا بند امامِ دوسَرا کو
کس شان سے میدان میں آتی ہے سواری
جاروب کش راہ ہے خود بادِ بہاری
ہیبت سی ہر اک دل پہ ہوئی جاتی ہے طاری
مشکل ہے سلامت رہے اب جان ہماری
حملہ جو ڈپٹ کر یہ کسی سمت کریں گے
جو تیغ سے بچ جائیں گے بے موت مریں گے
آراستہ تھا صبح سے شبیر کا رہوار
حاضر درخیمہ پہ تھا وہ اسپ وفادار
عابد کو دُعا دے کے جو نکلے شہ ابرار
اب سخت پریشان ہوئے دل میں جفاکار
ہے وقت مصیبت کا ، قیامت کا، بلا کا
کیا سامنا ہو گا پسرِ شیر خدا کا
اے امام المرسلینِ اولین و آخرین
نقش ہیں سجدے ترے اب تک سرِ عرشِ بریں
اے نمازوں کے موسس ، قبلہ دنیا و دیں
ہے عبادت گاہ تیرے واسطے ساری زمیں
تا قیامت رشک جس پر آئے گا افلاک کو
تیری پیشانی نے وہ رتبہ دیا ہے خاک کو
انصار و اعزا سے جو خیمے ہوئے خالی
برچھی جگر اکبر مہرز نے بھی کھا لی
عباس نے بھی نہر پہ زینب کی دعا لی
ششماہے نے کی جان فدائے شہ عالی
تاراجِ خزاں ہو گئے جب باغ بہتّر (72)
اب سینہ شبیر تھا اور داغ بہتّر (72)
اور کیا تھے طالب و مطلوب میں ناز و نیاز
ہیں یہ اسرارِ الٰہی یا رسالت کے ہیں راز
ہاں پئے اُمّت عطا فرما دیا یہ امتیاز
دے دیا معراج مومن کے لیے فرضِ نماز
جو سرِ مسلم نمازِ فرض میں جھک جائیگا
وہ زمیں پر رہ کے معراجِ عقیدت پائیگا
پھر لشکر اعدا سے جو برسائے گئے تیر
سینے ہوئے انصارِ وفا کیش کے نخچیر
دنیا کو گئے چھوڑ کے ، لی خلد کی جاگیر
مرتے ہوئے کہتے تھے سلامت رہیں شبیر
اسلام جو ہے ایک جسد جان یہی ہیں
ایماں کی قسم حاصل ایمان یہی ہیں
جذبہ بیدار کو انعام خدمت مل گیا
قلب کو گنجینہ ذوق عبادت مل گیا
شوق کو اذن نجاتِ آدمیت مل گیا
سر جو سجدے میں جھکا تاج شفاعت مل گیا
عارض والفجر کی تابندگی بخشی گئی
گیسوئے والیل کی رخشندگی بخشی گئی