بحر عرفاں میں علی اک گوہرِ یکتا بھی ہے
صرف شہرِ علم کا دَر ہی نہیں دریا بھی ہے
صاحبِ حلم و کرم بھی ہے چمن آرا بھی ہے
ضیغمِ اسلام بھی ہے لطفِ سر تا پا بھی ہے
بہرِ گلزارِ نبی اپنے گُلِ تر دے گیا
دینِ حق کے واسطے شبیر و شبر دے گیا
جَو کی روٹی تھی غذا اور فقر تھا جس کا لباس
عشق پر بنیاد جس کی ، دین پر جس کی اساس
شیر کی صُورت جو گزرا تہلکوں سے بے ہراس
جوہرِ قابل تھا وہ دنیا میں تو جوہر شناس
مختصر الفاظ میں دفتر کا دفتر کہہ دیا
جس کو تو نے اپنے شہرِ علم کا دَر کہہ دیا
مرتضٰی مشکل کشا، تیرا وزیر معتبر
جو کبھی شمشیر تھا تیری کبھی تیری سپر
جس نے دنیا کو نہ دیکھا تیری صُورت دیکھ کر
نامِ نامی میں ہے جس کے آج تک اتنا اثر
زندگی بھر جو امیں تھا قوّتِ اسلام کا
آج بھی نعرہ لگاتے ہیں ہم اُس کے نام کا