اب طاقتِ تحریر نہیں تجھ کو صبا بس
بیماری میں جو لکھ سکا وہ تو نے لکھا بس
بے حال ہوئے جاتے ہیں سب اہلِ عزا بس
ہو گا غمِ شبیر کا حق کیسے ادا بس
مقصود یہی تھا ترے اندازِ سخن کا
اللہ کسی کو بھی نہ دے رنج وطن کا
آوازِ فغاں آنے لگی شہ کے حرم سے
زینب ہوئیں بےتاب و تواں فرطِ الم سے
چلاتی تھیں سرپیٹ کے یوں شدتِ غم سے
اے بےوطنی لے لیا شبیر کو ہم سے
افسوس جُدا ہو گئے سرکارِ امامت
اب عابدِ بیمار ہیں اور بارِ امامت
تا دیر جو سجدے سے اٹھائی نہیں گردن
بڑھتے تھے گلا کاٹنے، ہٹ جاتے تھے دشمن
ہر ایک کو ہوتی تھی اسی خوف سے الجھن
رنگین نبی زادے کے خوں سے نہ ہو دامن
یہ راستہ بھی دشمنِ خونخوار نے کاٹا
شبیر کا سر شمرِ سیہ کار نے کاٹا
شبیر نے میدانِ وغا دیکھ کے خالی
واپس رکھی خود نیام میں شمشیر ہلالی
رخساروں سے غائب ہوئے آثارِ جلالی
گردن پئے تکمیل نماز اپنی جُھکا لی
سب تیر جو کھائے تھے بدن میں وہ گڑے تھے
اک خاک کے انبار میں سجدے میں پڑے تھے