پھر کہا عباس سے، کیجیے سفر کا اہتمام
صُبحِ طیبہ کا ذرا رُخ پھیر دیجیے سُوئے شام
منتظم ہیں آپ ہو جائے کچھ ایسا نظام
حشر تک زندہ رہے دینِ رسولِ حق کا نام
خاندانِ حیدری میں جتنے ہیں وہ سب چلیں
اہتمامِ خانہ داری کے لیے زینب چلیں
قبرِ زہراء پر گئے آنسو بہانے کے لیے
مَرقدِ شبّر پہ حالِ دل سنانے کے لیے
یُوں کہا، جاتے ہیں اب واپس نہ آنے کے لیے
دشتِ ویراں میں نئی دُنیا بسانے کے لیے
قصرِ ملّت گرنے والا ہے سنبھالا چاہیے
شام کی ظُلمت میں قرآنی اُجالا چاہیے
السّلام اے آفتابِ بزمِ امکاں السّلام
السّلام اے منزل تنزیلِ قرآں السّلام
السّلام اے جدِّ عالی قدر و ذی شاں السّلام
آپ کا خادم چلا سُوئے بیاباں السّلام
ماں سے مل کر، بھائی کو کر کے سلام اب جائیں گے
خود منظم کرنے ملّت کا نظام اب جائیں گے
تربت جد پر یہ آ کر عرض کی اے شاہِ دیں
آپ نے جو کام سونپا تھا وہ ہے شاید قریں
امتحاں لینے پہ آمادہ ہوئے ہیں اہلِ کیں
فرض کی تکمیل میں سرکار ہم کو ڈر نہیں
غم نہیں کوئی کہ ہم مر جائیں یا زندہ رہیں
ہاں مگر ایسا نہ ہو محشر میں شرمندہ رہیں
جب سُنی شبیر نے امت کی آوازِ فغاں
دل پکارا، آ گیا نزدیک وقتِ امتحاں
اب مدینے میں ٹھہرنے کی بھلا مہلت کہاں
ایک دشتِ بے اماں میں جا کے دینا ہے اذاں
حق ہو ضو افشاں کسی کے قلب حق آگاہ پر
شاید آ جائے بھٹکتا کارواں پھر راہ پر
میں بالکل ٹھیک سعود بھائی، میں بھلا کبھی ایسا ہوا کہ گم ہو جاؤں ایسا تو بس ایک ہی بار ہونا ہے۔ :)
گزشتہ دنوں جنگوں میں مصروفیت رہی ہے :) کچھ نئے خوبصورت افق دریافت کر ڈالے ہیں، کچھ پرانے آفاق پر سے گرد جھاڑی ہے اور کچھ پر مزید مٹی ڈال دی ہے :) :)
اب آپ بتائیے کہ راوی اُونجا چہ میگوید!؟
اور یہ...
یہ فغاں کوفے سے اٹھی تا مدینہ آ گئی
شدّتِ تاثیر سے ساری فضا تھرّا گئی
ایک بجلی کی طرح اذہان پہ لہرا گئی
آنے والی جانبِ سبطِ شہ بطحا گئی
شورش طوفاں میں کشتی کا کنارا کون تھا
جُز حُسین ابنِ علی دیں کا سہارا کون تھا
روحِ قرآں نے دُہائی دی بچاؤ اے حُسین
شرعِ پیغمبر نے دی آواز آؤ اے حُسین
آگ مذہب میں لگاتے ہیں بجھاؤ اے حُسین
پھر نئے بُت سر اٹھاتے ہیں گراؤ اے حُسین
صفحہ ہستی سے پیغامِ خدا مٹ جائے گا
تم نہ آؤ گے تو دینِ مصطفٰی مٹ جائے گا
ذوالقرنین بھائی، بہت دنوں بعد آپ کی تحریر پڑھی، بہت اچھا لگا۔ ویسے اگر تحریر اس درجہ سنجیدگی نہ لیے ہوئے ہوتی تو میں ضرور اس پر کوئی جارحانہ مقدمہ لکھ ڈالنا تھا :)
نور سعدیہ شیخ، ظاہراً یہ تحریر آپ کی اپنی ہے، اگر ہاں تو یہ بتائیے کہ آپ نے اس تحریر کے لیے تاریخ کے کون کون سے (بالخصوص مستند) منابع و کتب سے استفادہ/مطالعہ کیا؟
زہر سے پھر جب حسن کا بھی کلیجہ کٹ گیا
ظلم نے سمجھا کہ اب رستے کا پتھر ہٹ گیا
پھر ہوس کیشوں میں بیت المال سارا بٹ گیا
اب کیا محسوس زور اسلام کا سب گھٹ گیا
یہ نہ سمجھا واقف سرِّ علی موجود ہے
دین کا وارث حسین ابن علی موجود ہے