اور اب پیشِ خدمت ہے میم الف بھائی کی خوبصورت نظم ’’سوچتے کیا ہو‘‘ کیکی پیروڈی۔
اگر یہ سوچ لیا ہے کہ خوب کھاؤ گے
تو کھاؤکھاؤ مری جان! سوچتے کیا ہو؟
جو ٹھونس ٹھونس کے کھانے کی تم نے ٹھانی ہے
پھر اِس میں پیٹ کا نقصان سوچتے کیا ہو؟
یہ پیٹ کھانے سے بھرتا ہے بس، ہوا سے نہیں
بغیر کھائے...