حسنِ معصوم کو نزدیک تو لا بیٹھا ہوں
وہی میں ہوں کہ گنہگار بنا بیٹھا ہوں
یونہی اٹھ کر نہیں ویرانے میں جا بیٹھا ہوں
ایک مدت تری گلیوں میں اٹھا بیٹھا ہوں
ان کی محفل میں گھڑی دو گھڑی کیا بیٹھا ہوں
پھر تو جب دیکھیے دل تھامے گیا بیٹھا ہوں
شاید اب موت کی تلخی بھی گوارا ہو جائے
ذائقہ دل کو محبت کا...