آ کہ شاعر کا راز فاش کریں
حسن کا قافیہ تلاش کریں
جو امر ہو گئے ہیں توڑ کے بت
ان بتوں کو بھی پاش پاش کریں
دل میں دنیا کے صرف دنیا ہے
دل کی دنیا میں بود و باش کریں
چڑھ گئی ہے شراب کی قیمت
غم کو غرقِ غمِ معاش کریں
دل میں اتری ہوئی ہیں وہ نظریں
نقش شیشے پہ جو خراش کریں
حرمتِ غم کا یہ تقاضا ہے...