میرے خیال ایسی تشریح وہاں کی جاتی ہے جہاں پر ایک ایک لفظ کو کھول کھول کر بیان کیا جاتا ہے یعنی کہ مفصل تفاسیر میں۔ مختصراً تو اس انداز میں مناسب ہے جس انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ (یہ صرف مجھ ناقص الرائے کی رائے ہے کوئی عالمانہ خلاصہ نہیں)
محترم یاسر شاہ ، عرفان علوی صاحبان! اب دیکھیے گا۔
ترے خیال کی مہک لیے لیے جدھر چلی
میں چل پڑا ہوں اپنے لب سیے سیے، جدھر چلی
گلی گلی دیار دل کی جھوم جھوم ہی گئی
تو زندگی کے جام کو لیے لیے جدھر چلی
وہ کوئی شعلہ تھا کہ وہ ہوائے یادِ یار تھی
جلا گئی، بجھا گئی دیے دیے، جدھر چلی
تری ہنسی کے ساز...
ہاں یہ بچوں کی عادت ہوتی ہے۔😊
اور بچے یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ان کا بابا دنیا کا سب سے زیادہ طاقتور اور قابل ترین انسان ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے ہر مشکل کا بآسانی حل نکال سکتا ہے
دعاؤں میں یاد رکھیے گا
لیجیے میں ایک رائے پیش کرتا ہوں "ہجے" والوں کو۔ سوال مشکل کر دیں اور ایک حد مقرر کر دیں۔ یا پھر ایک مقررہ وقت کے اندر اندر زیادہ سے زیادہ الفاظ بنانے ہوں۔ اور بہت سے الفاظ کو ان کی سائٹ قبول نہیں کرتی اس پر وہ اپنی سائٹ کی لغت کو اپڈیٹ کریں۔