آئین زندگی جو بتایا تھا دین نے
باطل کے بند کر دیے تھے اُس نے راستے
دُنیا پرست قتل ہوئے تھے بڑے بڑے
اُن سب کے داغ سینہ باطل پہ ثبت تھے
بعد از نبی علی ہوئے پھر کتنے نام تھے
شبیر ہی تو دیں کے مدار المہام تھے
پہلے فلک سے تا فلکِ ہفتمیں گئے
بن کر دیارِ نور کے مسند نشیں گئے
تا عرشِ پاک تا رشِ فرشِ زمیں گئے
خالق نے جن حدوں پہ بلایا وہیں گئے
تھی عین ذات اس کششِ درمیاں کے بعد
کیا رہ گیا تھا فاصلہ دو کماں کے بعد