کس کو ہوئے ہیں ایسے مدارج بھلا نصیب
اس ارتقا کے بعد یہ منزل بھی تھی عجیب
آوازِ غیب آنے لگی اے میرے حبیب
آ اور بھی قریب ذرا اور بھی قریب
عنوانِ خلقت و سببِ دو جہاں ہے تُو
کوئی وہاں پہنچ نہیں سکتا جہاں ہے تُو
یک مھندس آلمانی می خواست روی انسان قیمت بگذارد کہ آدم چقدر قیمت دارد؛ حساب کردہ گفتہ بود بیست مارک (۸۰ تومان)۔
چرا؟
گفتہ بود این انسان چھار کیلو آھک دارد، از نظر فیزیک و شیمی حساب کردہ بود، و ھمین طور پنج کیلو آھن، دو کیلو قند و۔ ۔ ۔ گفتہ بود بنا بر این یک انسان ۸۰ تومان قیمت دارد۔
کتاب: جھاد با...
اِن کی نظر مزاجِ رسالت سے آشنا
اِن کا مزاج خلق و مروت سے آشنا
اِن کا جلال رمزِ شجاعت سے آشنا
اِن کی زبان، نہجِ بلاغت سے آشنا
وہ روشنی علمِ درونی نہ آ سکی
دُنیا میں پھر صدائے سلونی نہ آ سکی
دُنیا بدل گئی تھی جو بعد رسُولِ پاک
گلزارِ دیں میں چاروں طرف اُڑ رہی تھی خاک
حیدر کو تھا حفاظت قرآں میں انہماک
اظہارِ حق میں کوئی تکلف نہ کوئی باک
کوئی خلافِ شرع اگر لَب کُشا ہوا
نعرہ بلند حق کا کیا گونجتا ہوا