قرآن جس نے لکھا قلم وہ انھیں ملا
جس پر نبی کو فخر، حشم وہ انھیں ملا
اب تک ہے جزو اسم، کرم وہ انھیں ملا
کوئی نہ لے سکا جو علم وہ انھیں ملا
دُنیا جھکی تھی عظمتِ کردار دیکھ کر
جبریل پَر بجاتے تھے تلوار دیکھ کر
بڑھتے رہے مقام طلب تک رسولِ پاک
ہوتا گیا تقربِ خالق میں انہماک
سمٹے تمام پردے ہوا ہر حجاب چاک
جلووں نے مرحبا کی صدا دی بہ صد تپاک
ہر سمت بحرِ نور کی موجیں رواں ہوئیں
ارواحِ انبیائے سلف شادماں ہوئیں