کیوں طبع اہلِ بیت نہ ہوتی بھلا غنی
ہر ایک جانتا تھا کہ دُنیا تو ہے دنی
تھی بارگاہِ حق میں مسلسل فروتنی
دنیا کے سامنے رہیں سب گردنیں تنی
تعمیلِ حُکمِ حق میں رُکا ہی نہیں کوئی
دُنیا نے لاکھ چاہا جُھکا ہی نہیں کوئی
فرمایا شاہِ دیں نے کہ اے میری لختِ دل
دُنیا کو ہے ثبات نہ جینا ہے مُستقل
تکلیف عارضی سے نہیں ہوتے مضمحل
وہ راہ چلیے جو رہِ حق سے ہے متصل
شکرِ خدائے پاک کرد حالِ زشت میں
حوریں کنیز بن کے ملیں گی بہشت میں
اللہ رے رسول کا حیدر پہ اعتماد
ہر سخت معرکے میں کیا ہے اُنہی کو یاد
تعمیلِ حکم کر کے ہمیشہ ہوئے یہ شاد
تلوار سے جہاد کبھی نیند سے جہاد
آیا نہ خوفِ جاں دل پُر اعتماد میں
شامل تھی نیند بھی شبِ ہجرت جہاد میں
چشمِ نبی میں سارے زمانے سے معتبر
زوجِ بتول، شبّر و شبیر کے پدر
ہیں بس یہی مدینہ علم نبی کا در
اسلام کا حصار تو ایمان کی سپر
ایماں کی دیکھ بھال میں شام و سحر رہے
اسلام پر ہو وار تو سینہ سپر رہے
کیونکر نہ ہوتے سارے زمانے سے سرفراز
یہ ذات وہ ہے جس پہ نبی نے کیا ہے ناز
ہر ایک رازِ حق کے تھے یہ آشنائے راز
حاصل ہے یہ اُنھیں کو زمانے میں امتیاز
بے شک یہ انتخابِ خُدا و رسول ہیں
داماد مصطفےٰ کے ہیں زوجِ بتول ہیں
کارِ علی، حریمِ نبوت کی دیکھ بھال
دستِ خدا کی تیغ تو دستِ نبی کی ڈھال
ہمسر ہو کوئی ان کا زمانے میں کیا مجال
خیبرشکن، زعیمِ عرب، فاتحِ جدال
ہاتھوں نے ان کے مانگ بھری تھی بتول کی
اِس آئنیے میں چھوٹ تھی نورِ رسول کی
اُس کے کرم سے کِھل گئی ہر قلب کی قلی
ہر ایک آئینے کو کیا اُس نے منجلی
انفاس سے اُسی کے وفا کی ہوا چلی
اُس کی ضیا، حسین، حسن، فاطمہ، علی
واللہ نورِ دیدہ ادراک ہو گئے
سب ایک ہو کے پنجتنِ پاک ہو گئے
اُس کی جبینِ پاک پہ تھا رحمتوں کا تاج
دنیا میں ہر زمانے کو ہے اس کی احتیاج
درماں ہر اک مرض کا ہر اک درد کا علاج
اُس نور کی ضیائیں جو کل تھیں وہی ہیں آج
حسنِ فروغِ محفلِ ایماں اُسی سے ہے
ہر بزمِ زندگی میں چراغاں اُسی سے ہے
وہ رات، جس پہ سینکڑوں دن کی ضیا نثار
وہ رات، جس کے نور سے روشن ہے روزگار
وہ رات، جس کی عظمت و شوکت ہے یادگار
وہ رات، جس کی وجہ سے دن کو ہے افتخار
دولت تجلیّاتِ الٰہی کی پائی ہے
اب تک جہاں میں صرف وہی رات آئی ہے
آرام گاہِ خاصِ رسالت حریم نور
ہر ذرّے میں تجلئ حق کا جہاں ظہور
جبریل آئے جس میں پئے خدمتِ حضور
وہ فرشِ خاک عرش سے ظاہر میں تھا جو دُور
سجدے ملائکہ کریں جس میں نگاہ سے
حضرت گئے فلک پہ اُسی خوابگاہ سے
قرآن جس کے دل پہ اُترتا تھا وہ نبی
آلائشِ حیات سے مطلق رہا بری
اس کے عروجِ ذات کو سمجھے گا کیا کوئی
اُس نے زمیں سے جا کے سرِ عرش سیر کی
ہوتی ہے یہ جو چاند میں دنیا کی جستجو
ہے یہ اُسی کے نقشِ کفِ پا کی جستجو