نتائج تلاش

  1. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: ترقی

    عالم کی رفعتوں کو جلو میں لیے ہوئے گلہائے خلد راہ میں پیہم بچھے ہوئے پیشِ نظر تمام مناظر سجے ہوئے حُسنِ ازل سے رنگِ ابد دیکھتے ہوئے لیتے ہوئے سلام یمین و یسار سے دل کو لگائے رحمت پروردگار سے
  2. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: ترقی

    کعبے سے سوئے عرش چلے سرورِ انام جبریل ہم رکاب شہِ آسماں مقام مرکب برائے سیر براقِ سبک خرام اُٹھے زمیں سے عرش جھکا بہر احترام سیارے دیکھنے لگے اور جُھومنے لگے خورشید و ماہتاب قدم چومنے لگے
  3. سیدہ شگفتہ

    مبارکباد حمیرا بہنا کو ایک ہزار مراسلے مبارک باد!

    اور آپ کو اجازت مل جائے گی :) یہ تو پیغامات لکھنے کی بجائے محفل سے بھاگنے کی منصوبہ بندی زیادہ نہیں لگ رہی :)
  4. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: نور

    اِن پر عطائے رحمتِ باری ہے بے شمار اِن کی نظر کے ساتھ زمانے کی تھی بہار اِن کی سخاوتوں کا بیاں کیا ہو بار بار بخشے تھے اِن کو مرتبے اللہ نے ہزار وجہِ فروغِ ذات ہیں وہ کام دے دیے قدرت نے دستِ خاص سے انعام دے دیے
  5. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: نور

    نورِ محمدی سے ہے قلب علی میں تاب خورشید ہیں رسولِ خدا، یہ ہیں ماہتاب اِن کے کمال و فضل کا ممکن نہیں حساب اِن کا نسب ہے نور، لقب ان کا بو تراب اِن کی ضیا سے خاک کے طبقے دمک گئے مٹی کو مس کیا تو ستارے چمک گئے
  6. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: بصارت اور بصیرت

    اُن کی نظر میں موت حیاتِ ابَد کا نام اُن کی نگاہ واقفِ اسرارِ صبح و شام تھا اُن کے مشوروں پہ ہی اسلام کا نظام ذات اُن کی تھی حبیبِ رسولِ فلک مقام شانِ خلوص و رنگِ ریا جانتے تھے یہ کھوٹے کھرے کے فرق کو پہچانتے تھے یہ
  7. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: بصارت اور بصیرت

    راہِ خدا میں کون تھا اِن کا سا جانفروش سربر کف و رجز بہ زبان و کفن بدوش ایک اک نفس میں خدمتِ دینِ نبی کا جوش حق کوش حق پسند حق آگاہ حق نیوش ہمت کو رزم گہہ میں نہیں ہارتے ہیں یہ وقتِ جہاد موت کو للکارتے ہیں یہ
  8. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: بصارت اور بصیرت

    ہجرت کی شب ملا اُنھیں بستر رسول کا محصور چار سمت سے تھا گھر رسول کا نرغے میں دُشمنوں کے برادر رسول کا تنہا علی کی ذات تھی لشکر رسول کا دل میں رسولِ حق کی محبت لیے ہوئے سوتے تھے اپنی جاگتی قسمت لیے ہوئے
  9. سیدہ شگفتہ

    تعارف ہماری کہانی

    آپ نے ضرور کسر نفسی سے کام لیا ہے ورنہ کم از کم ایک سانحہ تو اس دن ضرور ہوا تھا۔ دلچسپ لکھا آپ نے۔ اگر لکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور فروعی موضوعات سے توجہ ہٹا سکیں تو اچھا مزاح تخلیق کر سکتے ہیں۔ خوشی ہوئی کہ آپ نے قرآن پاک حفظ کیا ہے۔ حافظ قرآن ہونا آپ کے لیے زندگی میں کیسا ثابت ہوا؟ مکمل...
  10. سیدہ شگفتہ

    بالآخر زبانِ اردو کے ایک اور لفظ 'ناظم' نے دارِ فانی کو الوداع کہہ دیا

    ظہیر احمد بھائی، آپ میرے لیے بزرگ اور بڑے بھائی کی مانند ہیں مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگے گا کہ آپ معذرت کا لفظ استعمال کریں، مجھ سے غلطی ہوئی مجھے یہ بات مکالمہ میں آپ سے پوچھ لینی چاہیے تھی، میں آپ سے معذرت خواہ ہوں۔ بحیثیت انسان مجھ سے یقینا غلطی سرزد ہو سکتی ہے آپ نہ صرف نشاندہی کر سکتے ہیں...
  11. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: قلم

    میزانِ قوّتِ حق و باطل ہے یہ مقام کرتا ہے بڑھ کے اَوجِ ثرّیا اسے سلام چمکا ہے اس جگہ نئے سر سے خدا کا نام پایا ہے اس میں عظمتِ اسلام نے دوام کیا اوس پڑ گئی ہوس انتقام پر باطل بھڑک کے خاک ہوا اس مقام پر
  12. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: قلم

    ہر قلب میں بسی ہے وہی ہے یہ کربلا جو سرِّ سرمدی ہے وہی ہے یہ کربلا جنت جہاں بنی ہے وہی ہے یہ کربلا پہچان لو وہی ہے وہی ہے یہ کربلا کل خاک اُڑ رہی تھی جہاں آج نُور ہے جو ذرّہ جس مقام پہ پے رشکِ طور ہے
  13. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: قلم

    صبر و ثباتِ شہ کا خزینہ ہے کربلا جس میں ہے دفن حق وہ دفینہ ہے کربلا یا خاتمِ جہاں کا نگینہ ہے کربلا جس میں حسین ہیں وہ مدینہ ہے کربلا جب سے امین تربتِ شبیّر ہو گئی اس سر زمیں کی خاک بھی اکسیر ہو گئی
  14. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: قلم

    شبّیر بھی تھے فرد اسی خاندان کے شبّر کی تھی جو شان اُسی آن بان کے یہ جانتے تھے لوگ عدو ہوں گے جان کے معلوم تھا کہ آئیں گے وقت امتحان کے وہ امتحان گاہ سرِ کربلا بنی کیا سر زمین منزل صبر و رضا بنی
  15. سیدہ شگفتہ

    والدین کی مغفرت کے لیے دعا - 5

    رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا
Top