ہمارے "منتخب کردہ" نمائندوں کی اکثریت "مفاد پرست" ہوا کرتی ہے۔ اور ہمارے ہاں نظریاتی سیاست صرف نعروں میں نظر آتی ہے ۔ ہمارے سیاسی نمائندوں کے ہاں وفاداری بھی محض شخصیات کے لئے ہوا کرتی ہے اور ہمارے ہاں نظریاتی سیاست کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
اچھا!
ویسے ہمیں یہ لگتا ہے کہ قیصرانی بھائی اب پہلے کی طرح محفل میں فعال نہیں رہنا چاہتے۔ اور اُن کے علاوہ بھی کئی ایک اراکین ہیں جنہوں نے اس طرز کو اختیار کیا ہوا ہے۔