گیت
(شبینا ادیب)
تیری آنکھوں میں رہوں
روشنی بن کر تیرے گھر کے چراغوں میں رہوں
تیرا وعدہ بھی نہ سیاسی ہو
اب فضاؤں میں نہ اُداسی ہو
چھو کے قدموں کو ہر خوشی گزرے
کاش اب یوں ہی زندگی گزرے
میں تیرے ساتھ تیرے دن تیری راتوں میں رہوں
پیار یہ میرا تجھ سے کہتا ہے
دل کی دھڑکن میں تو ہی رہتا ہے
گیت میں...
تمہیں ملا صبح نو کا تحفہ، ہماری قسمت میں رات نکلی
تمہارے حصے میں جیت آئی، ہمارے حصے میں مات نکلی
رہا نہیں آج دل پہ قابو، چھلک پڑے آنکھ سے جو آنسو
تو میں سمجھا اسی بہانے، تمہارے غم کی زکوات نکلی
(ممتاز نسیم ، ہندوستان)
غزل
(ممتاز نسیم ، ہندوستان)
میری زندگی کی کتاب کا، ہے ورق ورق یوں سجا ہوا
سرِ ابتدا سرِ انتہا، تیرا نام دل پہ لکھا ہوا
یہ چمک دمک تو فریب ہے، مجھے دیکھ گہری نگاہ سے
ہے لباس میرا سجا ہوا، میرا دل مگر ہے بجھا ہوا
میری آنکھ تیری تلاش میں، یوں بھٹکتی رہتی ہے رات دن
جیسے جنگلوں میں ہرن کوئی ہو...
غزل
(معراج فیض آبادی)
ایک ٹوٹی ہوئی زنجیر کی فریاد ہیں ہم
اور دنیا یہ سمجھتی ہے کہ آزاد ہیں ہم
کیوں ہمیں لوگ سمجھتے ہیں یہاں پردیسی
اک مدت سے اسی شہر میں آباد ہیں ہم
کاہے کا ترکِ وطن، کاہے کی ہجرت بابا
اسی دھرتی کی، اسی دیش کی اولاد ہیں ہم
ہم بھی تعمیرِ وطن میں ہیں برابر کے شریک
در و دیوار...
غزل
(معراج فیض آبادی)
محبت کو میری پہچان کردے
میرے مولا مجھے انسان کردے
بہت دن سے اکیلا چل رہا ہوں
خداوندا! سفر آسان کردے
در و دیوار شکوہ کررہے ہیں
اُسے اک دن میرا مہمان کردے
شکستہ بام و در دیکھے نہ جائیں
حویلی کو میری میدان کردے
میں جب بولوں تو مہکے ساری محفل
میری آواز کو لوبان کردے
محبت،...
غزل
(معراج فیض آبادی)
اسی تھکے ہوئے دستِ طلب سے مانگتے ہیں
جو مانگتے نہیں رب سے، وہ سب سے مانگتے ہیں
وہ بھیک مانگتا ہے حاکموں کے لہجے میں
ہم اپنے بچوں کا حق بھی ادب سے مانگتے ہیں
میرے خدا اُنہیں توفیقِ خودشناسی دے
چراغ ہو کہ اُجالا جو شب سے مانگتے ہیں
وہ بادشاہ اِدھر مڑ کہ دیکھتا ہی نہیں
ہم...