کسی منزل پہ ٹھہرنا ہے نہ گھر رہنا ہے
ہم ہیں سورج ہمیں سرگرمِ سفر رہنا ہے
سر کٹانے کے لیئے جنگ میں ہم ہیں موجود
رہنماؤں کو تو آرام سے گھر رہنا ہے
سستی شہرت کی حویلی پہ نہ اِترا منظر
کچھ دنوں کے بعد نہ دیوار نہ در رہنا ہے
(منظر بھوپالی)
لگاؤ دیر نہ اب دل کو صاف کرنے میں
بھلائی سب کی ہے یاروں معاف کرنے میں
اُن ہی کو قتل کریں گی یہ ساری تلواریں
لگے ہوئے ہیں جو تلوار صاف کرنے میں
(منظر بھوپالی)
غزل
(منظر بھوپالی)
ظلم والوں سے محبت نہیں کرسکتا میں
ان گنہگاروں کی عزت نہیں کرسکتا میں
ہر غلط بات پہ میں آپ کی کہہ دو لبیک
اس طرح خونِ صداقت نہیں کرسکتا میں
وہ تو زخموں کو نمکدان بنا دیتے ہیں
دل کے زخموں پہ سیاست نہیں کرسکتا میں
بات سنتے ہی اُتر آتے ہیں گستاخی پر
اب تو بچوں کو نصیحت نہیں...
یہاں کسی کو کسی پر تنقید کرنے سے کوئی نہیں منع فرما رہا ہے۔۔بلکہ کہنا یہ مقصود ہے کہ تنقید کے لیئے الگ دھاگہ بنا لیں۔۔ تاکہ وہاں اپنے دل کی بھڑاس نکال سکیں نقاد۔۔اور پھر نقاد پر بھی تنقید کرسکیں دوسرے ناقدین۔ اتنی سے بات ہے اور کوئی گل نہیں۔۔
اب افتار کے لیئے تیاری کرنی ہے۔۔کرنے دیں۔۔ٹائم ضائع...
نظم دوبارہ سے حاضرِ خدمت ہے!
ستم کروگے ستم کریں گے
کرم کروگے کرم کریں گے
ہم آدمی ہیں تمھارے جیسے
جوتم کروگے وہ ہم کریں گے
چلائے خنجر تو گھاؤ دیں گے
بنوگے شعلہ آلاؤ دیں گے
ہمیں ڈبونے کی سوچنا مت
تمہیں بھی کاغذ کی ناؤ دیں گے
قلم ہوئے تو قلم کریں گے
جو تم کروگے وہ ہم کریں گے
تم اُٹھتے ہاتھوں کو...