غزل
(کلیم قیصر)
ہم جو تجھ میں سمائے رہتے ہیں
ساری دنیا پہ چھائے رہتے ہیں
جتنے پھل دار پیڑ ہیں جھک کر
اپنی قیمت بڑھائے رہتے ہیں
یہ ہُنر والے کس ہُنر کے ساتھ
عیب اپنے چھپائے رہتے ہیں
یہ بھی اک خاندان ہے جس میں
لوگ سارے پرائے رہتے ہیں
کیسے بندے ہیں یہ خُدا تیرے
ہر جگہ سر جھکائے رہتے ہیں
چند...
کیا سچ ہے، جھوٹ کیا ہے، ہر شخص جانتا ہے
ایک آدمی کے اندر ایک آدمی چھپا ہے
تاریخ کہہ رہی ہے سب کچھ کہا سُنا ہے
اور ہم یہ سوچتے ہیں یہ شعر کچھ نیا ہے
(کلیم قیصر)
خیریت کی چاہ میں سب اپنے بیگانے گئے
شاخ پھل دینے لگی تب پیڑ پہچانے گئے
شہر میں تو رخصتی دہلیز تک محدود ہے
گاؤں میں پکی سڑک تک لوگ پُہچانے گئے
(کلیم قیصر)
مبروک۔۔
اُردو محفل جیتی رہو دودھو نہاؤ اور پوتو پھلو۔۔ہزار برس جیو۔۔اور ہر برس کے دن ہوں ہزار برس۔۔ پر، چھر، لکڑ بننے کے بعد بھی ہمیشہ جوان ہی رہو۔۔خوبصورت دوشیرہ کی طرح ہنستی مسکراتی رہو۔۔ اراکینِ اردو محفل کی پر اولادیں بھی تمہاری خوبصورتی کے گُن گائیں۔۔اور تم سے استفادہ کریں۔۔خوش رہو...