شکوہ
کیوں زیاں کار بنوں خُود فراموش رہُوں؟
فکرِ فردا نہ کروں ، محوِ غمِ دوش رہوں
نالے بلبل کے سنوں ، اور ہمہ تن گوش رہوں
ہمنوا ! میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں
[align=left:4c10c6fd23]جُرات آموز مری تابِ سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو[/align:4c10c6fd23]
ہے بجا...