ایک پرانی غزل ۔ احباب کے ذوق کی نذر!
غزل
زمانہ ہر اک پل تغیّر میں تھا
وہی چل سکا جو تدبر میں تھا
ہوا بُرد ہوتی رہیں دستکیں
کوئی واہموں کے تحیّر میں تھا
محبت ہے کیا جان پایا نہ میں
اگرچہ ازل سے تفکر میں تھا
نگر چھوڑنے کا مرا فیصلہ
تیری الجھنوں کے تناظر میں تھا
ندامت تھی مجھ کو اُسی بات پر...