نتائج تلاش

  1. ابو ہاشم

    حقیقی اردو قواعد: اِشار (pronouns etc)

    خصوصی مفعولی شخصی اِشار یہ وہ اشار ہیں جو کسی شخص کے مفعولی حالت میں ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اردو میں مفعول کے بعد عموماً لفظ 'کو' استعمال ہوتا ہے ۔ اشاروں کے لیے یہ ان کی امالی شکل کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ ان سادہ 'کو' والےاشاروں کے علاوہ ان اشاروں کی بدلی ہوئی شکلیں بھی ہیں اور عام طور پر...
  2. ابو ہاشم

    حقیقی اردو قواعد: اِشار (pronouns etc)

    ذاتی شخصی اشار ذاتی شخصی اشار کی چھ قسموں میں سے ہر ایک قسم کی آگے دو دو شکلیں ہیں۔ ایک عام شکل اور دوسری امالی شکل (جو اشاروں کے بعد امالیہ آنے سے بنتی ہے۔ امالیے: نے؛ کو؛ میں ، سے، پر، تک، پہ؛ کا/کے/ کی، والا/والے/والی/والیاں ؛ جیسا/ جیسی/ جیسے ؛ سا/ سی/ سے؛ بارے، وغیرہ)۔ جنس کے لحاظ سے یہ...
  3. ابو ہاشم

    حقیقی اردو قواعد: اِشار (pronouns etc)

    شخصی اشار کی قسمیں شخصی اشار کی آگے چھ قسمیں ہیں: 1۔ متکلم : بات کرنے والا/والے ۔ اسے پہلا شخص بھی کہا جاتا ہے۔ 2۔ مخاطَب : جس /جن سے بات کی جائے۔ اسے دوسرا شخص بھی کہا جاتا ہے۔ 3۔ قریب/ موجود: قریب یا موجود شخص /اشخاص جس /جن کے بارے میں بات کی جائے ۔ 4۔ دور/ غائب : دور یا غائب شخص /اشخاص جس...
  4. ابو ہاشم

    حقیقی اردو قواعد: اِشار (pronouns etc)

    1۔ شخصی اشار شخصی اشار وہ اشار ہیں جو کسی شخص کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ انھیں ضمیر بھی کہتے ہیں۔ شخصی اشار کے آگے دو زمرے ہیں: ا۔ ذاتی شخصی اشار ب۔ تعلقی شخصی اشار ذاتی شخصی اشار یہ وہ اشار ہیں جو کسی شخص کی ذات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تعلقی شخصی اشار یہ وہ اشار ہیں جو کسی شخص کے کسی دوسرے شخص یا...
  5. ابو ہاشم

    حقیقی اردو قواعد: اِشار (pronouns etc)

    اشاروں کے زمرے اردو اشاروں کو مندرجہ ذیل زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے : 1۔ شخصی اشار 2۔ چیزی اشار 3۔ جگہی اشار 4۔ سمتی اشار 5۔ وقتی اشار 6۔ کیفیتی اشار 7۔ شماری اشار 8۔ مقداری اشار
  6. ابو ہاشم

    حقیقی اردو قواعد: اِشار (pronouns etc)

    اِشار اشار ایسا لفظ ہوتا ہے جو کسی اسم کی طرف اشارہ کرے جیسے میں، یہ، یہاں وغیرہ ۔ چونکہ اسم ایک ایسا لفظ ہوتا ہے جو کسی شخص، جگہ، چیز، عمل، کیفیت یا تصور کے لیے استعمال ہوتا ہے۔اس لیے ایسے تمام الفاظ اِشار ہوں گے جو کسی شخص، چیز، جگہ، عمل ، کیفیت یا تصور کی طرف اشارہ کریں۔ مثالیں: شخص: میں ،...
  7. ابو ہاشم

    حقیقی اردو قواعد: اسم

    جی ضرور ۔ یہ میرے لیے شرف ہو گا۔ البتہ یہ کام بہت بڑا ہے اور جلدی میں کیا جا رہا ہے اس لیے اس میں ضرور جھول بھی ہوں گے اور غلطیاں بھی ۔ گذارش ہے کہ اس سارے مواد کو سخت تنقیدی نظر سے دیکھا جائے اور اپنی رائے دی جائے ۔
  8. ابو ہاشم

    حقیقی اردو قواعد: اسم

    ندائی حالت بنانا واحد مذکر اسم کی ندائی حالت واحد مذکر اسم کی ندائی حالت کے لیے اس لفظ کی جمع استعمال ہوتی ہے۔ جو قواعد(اوران کے استثنا) مذکر اسم کی جمع بنانے کے ہیں وہی قواعد مذکر اسم کی ندائی حالت بنانے کے ہیں۔مثالیں: لڑکے!، کتے!، بھیڑیے!، بادشاہ!، ڈاکو!، ابّا!، دادا!، بھیا!، سالے!، صنم!،...
  9. ابو ہاشم

    حقیقی اردو قواعد: اسم

    جمع مذکر کی امالی حالت عمومی کلیہ: جمع مذکر اسما کی امالی حالت بنانے کے لیے ان کے آخر میں وں لگا دیتے ہیں ۔ جیسے کسان سے کسانوں ، پیر سے پیروں، ساتھی سے ساتھیوں، آدمی سے آدمیوں ، وغیرہ (استثنا: ا،و (علت)،ے، ئیں پر ختم ہونے والے اسما) استثنائی کلیے: 1۔ جمع مذکر لفظ ے پر ختم ہو تو اس کی اس آخری ے...
  10. ابو ہاشم

    حقیقی اردو قواعد: اسم

    امالی حالت بنانا واحد مذکر کی امالی حالت واحد مذکر لفظ کی امالی حالت کے لیے اس لفظ کی جمع استعمال ہوتی ہے۔ جو قواعد(اوران کے استثنا) مذکر اسم کی جمع بنانے کے ہیں وہی قواعد مذکر اسم کی امالی حالت بنانے کے ہیں۔ لفظ لڑکا کی مثال لیں: لڑکے نے پانی پیا۔ لڑکے کو مار پڑی۔ لڑکے سے کتاب لے۔ ان تمام جملوں...
  11. ابو ہاشم

    حقیقی اردو قواعد: اسم

    اسم کی حالت اسم کی تین حالتیں ہوتی ہیں: 1۔ عام حالت 2۔ امالی حالت 3۔ ندائی حالت عام حالت: یہ اسم کی عام حالت ہے اور زیادہ تر اسم اسی حالت میں استعمال ہوتا ہے۔ امالی حالت: بعض خاص الفاظ اور لاحقے ایسے ہیں جو اگر کسی اسم کے بعد آ جائیں تو اس اسم کی شکل بدل جاتی ہے(معنے میں فرق نہیں پڑتا) ۔ اسم...
  12. ابو ہاشم

    حقیقی اردو قواعد: امالیے

    امالیے یہ الفاظ اسم، اِشار (pronoun) اور صفت کےبعد آتے ہیں اور اس کی حالت امالی کر دیتے ہیں ان کی مندرجہ ذیل قسمیں ہیں: 1) فاعلی امالیہ: نے 2) مفعولی امالیہ: کو 3) جاری امالیے: میں ، سے، پر، تک، پہ 4) اضافی امالیے: کا/کے/ کی، والا/والے/والی/والیاں ، -دار 5) تشبیہی امالیے: جیسا/ جیسی/ جیسے ؛ سا/...
  13. ابو ہاشم

    حقیقی اردو قواعد: صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے

    اردو لفظوں کی بناوٹ کے لحاظ سے بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں: 1۔ دیسی 2۔ بدیسی اس قواعد میں دیسی الفاظ ہماری توجہ کا خصوصی مرکز ہوں گےکیونکہ زبان کا بنیادی ڈھانچہ انھی الفاظ میں تغیر و تبدل پر مشتمل ہے۔ البتہ بدیسی الفاظ پر بھی مناسب توجہ دی جائے گی۔
  14. ابو ہاشم

    حقیقی اردو قواعد: اسم

    تثنیہ ایک خاص جمع جو کہ ایک ہی قسم کی صرف دو چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مثالیں: قُطبَین(دو قطب: شمالی قطب اور جنوبی قطب)، فریقَین(دونوں فریق)، طرفَین(دو متضاد اطراف واقع چیزیں/افراد)، وسطَین(دو درمیان میں آنے والے) ، والِدَین (دونوں والد: ماں باپ)، زوجَین(دونوں زوج: میاں بیوی)، ضدَین...
  15. ابو ہاشم

    حقیقی اردو قواعد: اسم

    مؤنث کی جمع عمومی کلیہ: مؤنث لفظ کی جمع بنانے کے لیے اس کے آخر میں یں لگا دیتے ہیں مثلاً عورت سے عورتیں، رات سے راتیں، کتاب سے کتابیں وغیرہ۔ (استثنا علت آواز (vowel sound) یا ہ پر ختم ہونے والے الفاظ) استثنائی کلیے: 1۔ مؤنث لفظ ی یا ائی یا وئی پر ختم ہو تو اس کی جمع بنانے کے لیے اس کے آخر میں اں...
  16. ابو ہاشم

    حقیقی اردو قواعد: اسم

    واحد سے جمع بنانا مذکر کی جمع عمومی کلیہ: مذکر لفظ کی واحد اور جمع کی صورت ایک ہی ہوتی ہے (استثنا ا/اں پر ختم ہونے والے الفاظ، اور ہ پر ختم ہونے والے وہ الفاظ جن پر ہ سے پہلے زبر ہو ) واحد جمع آدمی آدمی کسان کسان بادشاہ بادشاہ ہاتھ ہاتھ پاؤ پاؤ پڑاؤ پڑاؤ گاؤں گاؤں پاؤں...
  17. ابو ہاشم

    حقیقی اردو قواعد: اسم

    اسم کی تعداد بعض چیزوں کو شمار کیا جا سکتا ہے اور بعض کو نہیں مثلاًکتابوں، موروں، گیندوں وغیرہ کو ہم شمار کر سکتے ہیں جبکہ پانی، ہوا، دھواں، پیار، کھویا، آٹا وغیرہ کو ہم شمار نہیں کر سکتے۔ قابلِ شمار چیز اگر ایک ہو تو اس کے لیے واحد صیغہ استعمال کیا جاتا ہے اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو ان کے لیے...
  18. ابو ہاشم

    حقیقی اردو قواعد: اسم

    جی ہاں جہلم، چناب، ستلج کو پاکستان میں مذکر ہی بولا اور لکھا جاتا ہے۔ اور ندی کا تصور ہماری ہاں تو تھوڑے سے بہنے والے پانی کا ہے۔ اور یہ بات بھی ہے کہ ندی مؤنث ہے تو جس بھی بہتے ہوئے پانی کو ندی کہا جائے گا تو وہ خود بخود مؤنث ہو جائے گا۔
  19. ابو ہاشم

    حقیقی اردو قواعد: صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے

    شکریہ دونوں احباب کا۔ لیکن یہ کام بہت بڑا ہے۔ بلا مبالغہ بہت بڑا ہے۔ اردو سےمحبت کرنے والے احباب اس میں پورا تعاون کریں گے تبھی یہ مکمل ہو سکے گا۔
Top