تعالی اللہ چہ زیبا بر سرِ محفل نشستستش
تو گوئی جان و ایمان و دلِ عالم بدستستش
جُنوں درکارِ خود ہشیار از فیضِ نگاہِ اُو
خرد رم خوردہ جامِ رحیقِ چشمِ مستستش
کُجا اغیار و اعدا ، خویش را بیگانہ می بینم
کہ از پیوستنش بس وحشت افزا ترگستستش
ز یادِ خود مدہ آوارہ دشتِ محبت را
بجانِ تو کہ یادِ تو...
عشق تجھ سے جو ہم نے یار کیا
دل کی حسرت کو آشکار کیا
کیا کیا آپ نے یہ حضرتِ دل
سب سکوں نذرِ اعتبار کیا
تیری صورت کو دیکھ کر ہم نے
تجھ پہ کونین کو نثار کیا
ان کو چوکھٹ کو چوم کر ہم نے
سجدہ شکر بار بار کیا
تم نہ اٹھو ابھی کہ جی بھر کر
ہم نے دیکھا تمہیں نہ پیار کیا
شوق سے پائمالِ ناز کرو
نظر...
گئے عرش پر بڑی شان میں ، بلغ العلےٰ بکمالہ
ہوئی روشنی دو جہان میں ، کشف الدجےٰ بجمالہ
یہ بیاں ہے سارے قرآن میں ، حسنت جمیع خصالہ
پڑھو ہر گھڑی ہر آن میں ، صلوا علیہ وآلہ
از سید غلام معین الدین مشتاق رحمۃ اللہ علیہ
یہ کہاں تھی میری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
میری طرح کاش انہیں بھی میرا انتظار ہوتا
یہ ہے میرے دل کی حسرت یہ ہے میرے دل کا ارماں
ذرا مجھ سے ہوتی الفت ذرا مجھ سے پیار ہوتا
اسی انتظار میں ہوں کسی دن وہ دن بھی ہوگا
تجھے آرزو یہ ہوگی کہ میں ہم کنار ہوتا
تیرا دل کہیں نہ لگتا تجھے چین کیونکر آتا
تو...
"کشتگانِ خنجرِ تسلیم را
ہر زماں از غیب جانے دیگر است"
---------------------------------------------
بر درِ خُوباں نظامے دیگر است
انتظام و اہتمامے دیگر است
خاک بر سر ، چاک داماں ، دیدہ تر
در محبت ننگ و نامے دیگر است
السلام اے مفتی و قاضی و شیخ
مسجدِ ما را امامے دیگر است
زاہداں در کعبہ ، ما در...
"آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا" غالب علیہ الرحمۃ
سوئے گلشن وہ تیرا گھر سے خراماں ہونا
سرو کا جھومنا ، غنچوں کا غزلخواں ہونا
خوبرو گرچہ ہوئے اور بھی لاکھوں لیکن
تجھ سے مخصوص رہا خسرو خوباں ہونا
زندگی بھر کی تمناوں کا ٹھہرا حاصل
سامنے تیرے میرا خاک میں پنہاں ہونا
یہ تو اندر...
سید نصیر الدین نصیر اسی زمین میں بعمر 14 سال لکھتے ہیں:
اے کہ نامت بر زبانِ ما غریباں ہر دمے
وے کہ یادت مونسِ ہر بیدلے در ہر غمے
از جمالِ رُوئے تو جمعیتِ صد جان و دل
و ز پریشانیِ زلفِ تو ، پریشاں عالمے
از خطا شرمندہ ام لطفے بفرما اے کریم!
رشحہ ابرِ کرم ، موجے بہ کاہد از یمے
ساقیم آں بادہ...
تیرے ابرووںکی حسیںکماں ، نظر آ رہی ہے فلک نشاں
نہ کرشمہ قوسِ قزح سے کم ، نہ کشش ہلال کے خم سے کم
نہ ستا مجھے ، نہ رلا مجھے ، نہیں اور تابِ جفا مجھے
کہ مری متاعِ شکیب ہے ، تری کائناتِ ستم سے کم
یہ کرم ہے کم سرِ انجمن کہ پلائی اس نے مئے سخن
مجھے پاس اپنے بلا لیا ، رہی بات میری تو کم سے کم...
حضرت سیدنا پیر مہر علی شاہؒ سچے عاشق رسولؐ تھے، مرزائیت کے فتنے کو دفن کرنے کے لئے میدان کارزار میں اترے، انگریزوں کی اسلام کے خلاف سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے، درسگاہ اور خانقاہ کو اکٹھا کرنا ان کا عظیم کارنامہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار حمید نظامی ہال میں روزنامہ نوائے وقت، دی نیشن اور وقت...