بچپن سے مجھے کچھ اور یاد آگیا
عرض کیا ہے
بچپن کے دکھ کتنے اچھے ہوتے ہیں
تب تو صرف کھلونے ٹوٹا کرتے ہیں
وہ خوشیاں بھی جانے کیسی خوشیاں تھیں
تتلی کے پر توڑ کے اچھلا کرتے تھے
پاؤں مار کے خود بارش کے پانی میں
اپنی ناؤ آپ ڈبویا کرتے تھے
چھوٹے تھے تو مکروفریب بھی چھوٹے تھے
دانہ ڈال...