جمال احسانی غزل ۔ جب کبھی خواب کی اُمید بندھا کرتی ہے ۔ جمال احسانی

محمداحمد

لائبریرین
غزل

جب کبھی خواب کی اُمید بندھا کرتی ہے
نیند آنکھوں میں پریشان پھرا کرتی ہے

یاد رکھنا ہی محبت میں نہیں ہے سب کچھ
بھول جانا بھی بڑی بات ہوا کرتی ہے

دیکھ بے چارگیء کوئے محبت کوئی دم
سائے کے واسطے دیوار دعا کرتی ہے

صورتِ دل بڑے شہروں میں رہِ یک طرفہ
جانے والوں کو بہت یاد کیا کرتی ہے

دو اُجالوں کی ملاتی ہوئی اک راہگزر
بے چراغی کے بڑے رنج سہا کرتی ہے

جمالؔ احسانی

 
Top