ساقیا تیرا اصرار اپنی جگہ - نواز دیوبندی

محمداحمد

لائبریرین
غزل

ساقیا تیرا اصرار اپنی جگہ
تیرے مہ کش کا انکار اپنی جگہ

تیغ اپنی جگہ، دار اپنی جگہ
اور حقیقت کا اظہار اپنی جگہ

اب کھنڈر ہے کھنڈر ہی کہو دوستو
شیش محلوں کے آثار اپنی جگہ

طور پر لاکھ موسٰی سے ہو گفتگو
عرشِ اعظم پہ دیدار اپنی جگہ

اولاً حق نے تخلیق جس کو کیا
سب کے بعد اُس کا اظہار اپنی جگہ

مختصر یہ بتا سر بکف کون تھا
جیت اپنی جگہ ، ہار اپنی جگہ

بھائی سے بھائی کے کچھ تقاضے بھی ہیں
صحن کے بیچ دیوار اپنی جگہ

نواز دیوبندی

 

زونی

محفلین
مختصر یہ بتا سر بکف کون تھا
جیت اپنی جگہ ، ہار اپنی جگہ

بھائی سے بھائی کے کچھ تقاضے بھی ہیں
صحن کے بیچ دیوار اپنی جگہ




بہت خوب ، شکریہ احمد شئیر کرنے کیلئے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
شکریہ احمد صاحب خوبصورت غزل شیئر کرنے کیلیئے!
بہت خوب- شیئر کرنے کا شکریہ
بہت اچھی غزل ہے محمد احمد صاحب! بہت شکریہ قبلہ!
ہمیشہ کی طرح بہت خوب محمد احمد ۔۔:)
مختصر یہ بتا سر بکف کون تھا
جیت اپنی جگہ ، ہار اپنی جگہ

بھائی سے بھائی کے کچھ تقاضے بھی ہیں
صحن کے بیچ دیوار اپنی جگہ




بہت خوب ، شکریہ احمد شئیر کرنے کیلئے۔

شکریہ تمام احباب کا۔

آج بہت عرصے بعد یہ غزل دیکھی تو پتہ چلا کہ کافی جوابات واجب ہیں۔ :)
 

کاشفی

محفلین
بہت عمدہ جناب۔ شیئر کرنے کے لیئے شکریہ۔۔خوش رہیئے۔۔
ساقیا تیرا اصرار اپنی جگہ
تیرے مہ کش کا انکار اپنی جگہ

تیغ اپنی جگہ، دار اپنی جگہ
اور حقیقت کا اظہار اپنی جگہ

اب کھنڈر ہے کھنڈر ہی کہو دوستو
شیش محلوں کے آثار اپنی جگہ

طور پر لاکھ موسٰی سے ہو گفتگو
عرشِ اعظم پہ دیدار اپنی جگہ

اولاً حق نے تخلیق جس کو کیا
سب کے بعد اُس کا اظہار اپنی جگہ

مختصر یہ بتا سر بکف کون تھا
جیت اپنی جگہ ، ہار اپنی جگہ

بھائی سے بھائی کے کچھ تقاضے بھی ہیں
صحن کے بیچ دیوار اپنی جگہ
 
Top