حضرت مہدی کون؟

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

گرو جی

محفلین
چلیں‌ آپ صرف یہ بتا دیں‌
کہ قرآن میں کتنے انبیاء علیہ السلام کا ذکر ہے۔
اور دنیا میں‌ کتنے انبیاء تشریف لےلائے

بس۔
آپ یہ بتا دیں‌ پھر میں‌آپ کو امام مہدی کا نزول بمطابق احادیث بتاؤں‌گا۔
 

ظفری

لائبریرین
گرو جی یہ بڑی پرانی کتھا کہانی ہے۔ پہلے قرآن کی آیات کاپی پیسٹ‌کی جاتی ہیں‌، پھر یہ بھاشن دیا جاتا ہے کہ کتب احادیث اصل میں‌ کتب روایات و قصے کہانیاں ہیں اور یہ کہ یہ وفات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ڈھائی سو سال تک موجود نہیں‌ تھیں۔ پھر میرے آپ جیسے اس پر اعتراض‌ کرتے ہیں‌ کہ نماز کا طریقہ بھی پھر قرآن میں‌ کیوں‌ نہیں‌ اگر قرآن پر ایمان لانے سے اسلام مکمل ہوجاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
وسلام
میں نے بعض لوگوں کو یہ سوال اور اس قسم کے اور بھی سوالات اکثر اٹھاتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اب پتا نہیں کہ ان سوالات کی وجوہات لاعملی یا کم عملی ہے یا اس کے کچھ اور مقاصد ہیں ۔ مگر میں نے بہرحال آج کوشش کی ہے کہ ان سوالات کا جواب دیا جائے ۔ ذیلی مضمون موجودہ ٹاپک سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ جس کے لیئے میں معذرت خواہ ہوں ۔

سب سے پہلے ایک بنیادی بات سمجھ لیں کہ عام طور پر یہ غلط فہمی پھیل گئی ہے کہ دین ِ اسلام کی ابتداء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ہے ۔ قرآن مجید اس کی تردید کرتا ہے ۔ قرآن مجید کا دعویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ایک ہی دین تمام نبیوں کے ذریعے سے دیا ۔ اور اس کی ابتداء سیدنا آدم علیہ السلام سے ہوئی ہے ۔ وہ اللہ کے پیغمبر تھے ۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے اولین ہدایت دی اور اس کے بعد پھر پے در پے پیغمبروں کا سلسلہ جاری ہوا ۔ یہ سب اللہ کا دین " اسلام " ہی لیکر آئے ہیں ۔ قرآن مجید کا اپنی دینی دعوت کے بارے میں اصلی دعویٰ یہ ہے ۔ چنانچہ قرآن نے اس کو خود بیان کردیا ہے ۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے یہ فرمایا ہے کہ " جو دین ہم نے آپ کے لیئے لازم ٹہرایا ہے ۔ وہی دین ہم نے سب پیغمبروں کو دیا ۔ نوح علیہ السلام کو بھی یہی دین دیا ۔ ابراہیم علیہ السلام کو بھی یہی دین دیا ۔ عیسیٰ علیہ السلام کو بھی یہی دین دیا گیااور اس سے پہلے موسی علیہ السلام کو بھی یہی دین دیا گیا ۔ " اور یہ بتایا گیا ہے کہ سب کو اس دین کے بارے میں ایک ہی ہدایت کی گئی تھی کہ اس کو مضبوطی کیساتھ پکڑو ۔ اور اس میں کوئی تفرقہ پیدا نہ کرو ۔ یعنی اس دین کی وحدت کو ہر حال میں برقرار رہنا چاہئے ، اس بات کو قرآن مجید نے کئی جگہ کئی اسالیب میں بیان کی ہیں ۔ ہر مسلمان کو اس بنیادی بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیئے ۔

ہمارے ہاں صورتحال یہ ہے کہ ہم بھی اس کو غلط طریقے سے پیش کرتے ہیں ۔ غیر مسلم جب اسلام پر تنقید کرنے کے لیئے کھڑے ہوتے ہیں تو اکثر وہ یہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی فلاں بات بائبل سے لی گئی ہے ۔ فلاں بات انجیل سے لی گئی ہے ۔ فلاں بات فلاں جگہ سے لی گئی ہے ۔ حالانکہ وہ اس بات کو نہیں جانتے کہ قرآن مجید اسی تسلسل میں کھڑا ہوا ہے ۔ یعنی قرآن مجید اپنے بارے میں یہی نہیں کہتا کہ وہ اللہ کی پہلی کتاب ہے ۔ بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ وہ اللہ کی آخری کتاب ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ نہیں کہتا کہ وہ اللہ کے پہلے پیغمبر ہیں ۔ بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ وہ اللہ کے آخری پیغمبر ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب رسالت مآب صلی اللہ وسلم کی بعثت ہوئی ۔ تو اس وقت جس قوم میں آپ کی بعثت ہوئی ۔ وہ کسی دین سے واقف تھی کہ نہیں تھی ۔ ؟ اگر یہ پس منظر کی بات واضع ہوجائے تو ایسے کئی سوالوں کا جواب خودبخود سامنے آجائے گا ۔ جس کے بارے میں لوگوں کی حجت یہ ہوتی ہے کہ یہ قرآن مجید میں کیوں موجود نہیں ہے ۔ ؟

رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی بعثت جس وقت جس قوم میں‌ ہوئی ۔ وہ قوم دینِ ابراہیمی پر قائم تھی ۔ یعنی جس طریقے سے دینِ مسیحی پورا کا پورا ایک دین بن چکا ہے ۔ اور اس دین میں بہت سی چیزیں وہ آگئیں ہیں ۔ جو سیدنا عیسی علیہ السلام نے نہیں کہی تھیں ۔ جو اس وقت بھی انجیل میں نہیں پائی جاتیں ۔ چرچ کی پوری ایک روایت قائم ہوئی ۔ رہبانیت کا پورا ایک ادارہ قائم ہوا ۔ یہ ساری چیزیں اگرچہ آچکی ہیں ۔ لیکن وہ اپنے آپ کو نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے دیدتے ہیں ۔ وہ اپنے آپ کو مسیحی کہلاتے ہیں ۔ بلکل اسی طریقے سے دین کی وہ روایات جو رسالت مآب صلی علیہ وسلم کو ملیں ۔ یعنی جو آپ سے پہلے عرب میں موجود تھیں ۔ وہ ابراہیمی دین کی روایت تھیں‌۔ اس کے مطابق حج ہو رہا تھا ، اس کے مطابق نماز پڑھی جا رہی تھی ، اس کے مطابق روزے رکھے جا رہے تھے ، اس کے مطابق دین کے بہت سے احکام تھے جو روبہ عمل تھے ۔ اور ایک پوری کی پوری روایات چلی آرہی تھی ۔ اور وہ باقاعدہ اس کا نام بھی لیتے تھے اور ان کو عام طور پر حنیفی کہا جاتا تھا ۔ اس کی بڑی تفصیلات ہمارے قدیم علماء نے بھی بیان کیں ہیں ۔ یہاں کوئی نادر بات نہیں کہی جا رہی ہے ۔ شاہ ولی اللہ (رح ) کی کتاب " حجت اللہ بالغہ " میں پورا ایک باب ہے جس میں شاہ ولی اللہ نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اصل میں ابراہیمی دین کی تجدید کے لیئے تشریف لائے ۔ انہوں نے اس بات کو پوری تفصیل سے بیان کیا ہے اور اس ک باب کا عنوان ہی یہ ہے کہ " رسالت مآب صلی اللہ وسلم کی بعثت سے پہلے جہالیت میں کیا دینی روایات موجود تھیں ۔ ان تمام دینی روایات کا انہوں نے ذکر کیا ہے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جب بعثت ہوئی تو کیا صورتحال بن گئی تھی ۔ یعنی توحید سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے پیش کی تھی ۔ اس میں شرک کی آمیزش ہوگئی ۔ نماز کی ہیت بلکل حد تک تبدیل کردی گئی تھی ۔ حج میں بدعات شامل کر دیں گئیں تھیں ۔ روزوں کا معاملہ بھی اسی طرح بہت حد تک مشتبہ ہوچکا تھا ۔ دین ِ ابراہیمی میں بہت سی ایسی چیزیں تھیں جو اپنی اصل شکل میں تھیں ، بعض چیزیں ایسی تھیں کہ جن میں تحریفات ہوگئیں تھیں ۔ بعض ایسی چیزیں تھیں جو بھلا دی گئیں تھیں ۔ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے انہیں روایات کو اللہ کے حکم سے جاری کردیا ۔ ظاہر آپ اللہ کے پیغمبر تھے ۔ جب آپ پیغمبری کے منصب ر فائز ہوئے تو آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ اس ملت ابراہیمی کی پیروی میں مبعوث کیئے گئے ہیں ۔ آپ اس کی پیروی کریں گے ۔ چنانچہ آپ نے اس کو زندہ کیا ۔ جس جگہ کسی اصلاح کی ضرورت تھی ۔ اس میں اصلاح کی ۔ جہاں ترمیم کی ضرورت تھی وہاں اللہ کے حکم سے ترمیم کردی ۔ جہاں کوئی اضافہ مقصود تھا وہاں اضافہ کردیا ۔ اور پھر اس کو جاری کردیا ۔ یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصوید سے یہ دین آگے چلا ہے ۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ دین ، ابراہیمی دین کی روایت ہے ۔ سارے اس بات سے واقف ہیں کہ حضور صلی اللہ وسلم کے آنے سے پہلے ہی حج ہو رہا تھا ، جمعہ کی نماز کا بھی اہتمام بھی کیا جاتا تھا ۔ جنازہ کی بھی اسی طرح کی مثال موجود تھی ، نکاح بھی اسی طریقے سے ہوتا تھا ۔ طلاق کا کم و بیش یہی قانون تھا ۔ بیت اللہ موجود تھا ۔ بیت کی عظمت سے سب واقف تھے ۔ اللہ کا تصور موجود تھا اور اللہ سے دعائیں کی جاتیں تھیں ۔ اور " اللہ " کا لفظ بھی موجود تھا ۔ یہ ساری چیزیں موجود تھیں ۔

ہمارے ہاں عمومی تاثر یہ بن گیا ہے کہ وہاں تو سرے سے کوئی دین موجود ہی نہیں تھا ۔ اور رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار آکر ان کو دین بتایا ہے ۔ ایسا کچھ نہیں ہے ۔ یہ بنی اسماعیل ہیں ۔ حضرت اسماعیل کی اولاد تھے ۔ اور پھر ان کے اپنے شہروں میں یہود آباد تھے ۔ ان کے ہاں یہ روایت بنی اسرائیل کے دینی طور پر بھی موجود تھی ۔ اور یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں بہت سی ایسی چیزوں کا ذکر اس پہلو سے آتا ہے کہ جن چیزوں کی بابت ان کو بتایا جا رہا ہے ، یہ چیزیں لوگ پہلے سے جانتے ہیں ۔ آدمی جب قرآن پڑھتا ہے اور اگر وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو تو اس کے ذہن میں بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ قرآن کہتا ہے کہ نماز کا اہتمام کرو ۔ اس کی کوئی تفصیلات نہیں بتاتا ۔ زکوۃ ادا کرو اس کی کوئی تفصیلات نہیں بتاتا ۔ حج کے بارے میں بلکل ایسے ہی ذکر کرتا ہے کہ چند چیزیں ہیں جن کے اندر خرابی پیدا ہوگئی ہے جن کی اصلاح کردینی ہے ۔ جب کوئی آدمی اس زاویئے سے دیکھتا ہے اور وہ اس بات کے پس منظر سے واقف نہ ہو تو بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ چنانچہ بعض لوگوں نے موجودہ زمانے میں یہی کیا کہ ان سب چیزوں کو قرآن سے برآمد کرنے کی کوشش کی ۔ یہ خود ایک بے معنی بات تھی ۔ قرآن پورے ایک پس منظر میں کھڑا ہے ۔ اس کی پوری ایک تاریخ ہے ۔ اس کے پیچھے دین کی ایک روایت کھڑی ہے ۔ اس میں وہ گفتگو کر رہا ہے ۔ جو چیزیں موجود ہیں ، معروف ہیں ، ، معلوم ہیں ۔ ان کو اپنانے کے لیئے کہہ رہا ہے ۔ لوگ ان سے واقف ہیں ۔ الفاظ موجود ہیں ۔ جب قرآن کہتا ہے کہ نماز کا اہتمام کرو تو لوگ جانتے ہیں کہ نماز کیا ہے ۔ ؟ ۔ زکوۃ ادا کرو تو لوگوں کو معلوم ہے کہ زکوۃ کیا ہے ۔ رسالت مآب یہ باتیں پہلی بار نہیں بتا رہے ۔ اس وجہ سے اس کی تفصیل کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اس کو ایک آسان مثال سے سمجھنے کی کوشش کریں کہ نبوت تو اب خیر ختم ہوگئی مگر تھوڑی دیر کے لیئے سوچیں کہ اگر اس وقت کسی پیغمبر کی بعثت ہو ۔ اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات جو دین میں پہلے سے چلی آرہی ہے ۔ تو وہ کیا کرے گا کہ جہاں کوئی خرابی پیدا ہوگئی ہے وہ اس خرابی کو دور کرے گا ۔ جہاں کوئی چیز مردہ ہوگئی ہے اس کو زندہ کردے گا ۔ اور اللہ جہاں چاہے گا اس کی مرضی سے وہاں کوئی ترمیم یا اضافہ بھی ہوجائے گا ۔ اور یہی معاملہ پوری کی پوری دینی روایت میں سب پیغمبروں نے کیا ہے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انجیل میں فرماتے ہیں کہ میں تورایت جو منسوخ کرنے کے لیئے نہیں آیا ہوں ۔ بلکہ اس کو پورا کرنے کے لیئے آیا ہوں ۔ لہذا تورایت کا جو قانون تھا انہوں نے اس کو آگے جاری کردیا ۔ پیغمبر کی تصوید اس کو حاصل ہوگئی ۔ یہی کام سب پیغمبروں نے کیا ہے ۔ اب جتنے لوگ اس وقت صاحبِ ایمان تھے تو وہ سب اس کو اپنا رہے تھے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا کہا تو سب نے نماز پڑھنی شروع کردی ۔ اس کی جماعت کا اہتمام شروع ہوگیا ۔ صحابہ کرام نے پانچ وقت مسجد میں حاضر ہوکر اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہونے کا سلسلہ شروع کردیا ۔ حج کا معاملہ ہوا تو ظاہر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حج کیا ، عمرے کیئے ۔ صحابہ کرام نے بھی اس کی پیروی کی ۔ رمضان آگیا تو انہوں نے روزے بھی رکھنا شروع کردیئے ۔ اور اس قسم کے جتنے بھی معاملات سے وہ سب رسالت مآب صلی اللہ وسلم کے ذریعے سے امت میں جاری ہوگیا ۔

اب اس بات کے کیا معنی نکلتے ہیں کہ نماز روزے وغیرہ کا قرآن میں ذکر ہے ۔ مگر طریقے کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ تو اس بات کا کیا مطلب اخذ کرنا چاہیئے کہ ایسا کیوں کہا جاتا ہے ۔ ؟
 

دوست

محفلین
اگر آپ "قرآنسٹ" ہیں تو قرآن سے ان کے طریقے کو زبردستی برآمد کریں چاہے وہ پانچ کی بجائے تین وقت کی نمازیں ہی ہوں۔ اور اگر آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو ہیں جن کے ورثے کا ایک *حصہ* قرآن ہے تو آپ اس پورے ورثے کو کھنگالیں گے۔ سمجھنا ہے تو بات سامنے کی ہے، نہیں سمجھنا تو اسی بات پر صفحے کے صفحے سیاہ کیے جاسکتے ہیں جو کہ ہوچکے، ہورہے ہیں اور آئندہ بھی ہونگے۔ نتیجہ وہ ڈھاک کے تین پات اور میں نا مانوں ہی ہوگا۔
وسلام
 

گرو جی

محفلین
اگر آپ "قرآنسٹ" ہیں تو قرآن سے ان کے طریقے کو زبردستی برآمد کریں چاہے وہ پانچ کی بجائے تین وقت کی نمازیں ہی ہوں۔ اور اگر آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو ہیں جن کے ورثے کا ایک *حصہ* قرآن ہے تو آپ اس پورے ورثے کو کھنگالیں گے۔ سمجھنا ہے تو بات سامنے کی ہے، نہیں سمجھنا تو اسی بات پر صفحے کے صفحے سیاہ کیے جاسکتے ہیں جو کہ ہوچکے، ہورہے ہیں اور آئندہ بھی ہونگے۔ نتیجہ وہ ڈھاک کے تین پات اور میں نا مانوں ہی ہوگا۔
وسلام

بات حضرت امام مہدی علیہ السلم کے ہونے یا نعوذ باللہ نہ ہونے کی تھی۔
میں‌ نے اپنے پچھلے پیغام میں جو لکھا تھا وہ صرف اس چیز کو مذید واضع کرنے کے لئے لکھا تھا۔
قرآن مجید میں صرف 23 ابنیاء علیہ السلام کا ذکرِ مبارک ہے بمعہ نامِ‌مبارک کے
جب کہ احادیث مبارکہ میں‌ 1،24،000 انبیاء کا ذکرِ مبارک ہے
تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ 23 انبیاء کو مانتے ہیں اور باقیوں‌کے نہیں‌مانتے (نعوذ باللہ(
جب آپ مذکورہ بالا حدیث کا اقرار کر رہے ہیں‌تو پھر صیح‌بخاری شریف میں‌پورا باب حضرت امام مہدی علیہ السلام پر ہے اس کی صداقت سے انکار کیوں ؟

وہ صاحب جو صرف قرآن مجید ہی کو تسلیم کرتے ہیں‌ اور احادیث کے منکر ہیں‌ ان سے التماس ہے کہ برآئے مہربانی اپنا علاج کروائیں۔ کیوں‌کہ صیح‌بخاری شریف کو سارے مسلک والے مانتے ہیں بشمول تمام علماء کرام۔

شکریہ
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم

سنن ابی داود


[arabic]3737 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ صَاحِبٍ لَهُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَارِبًا إِلَى مَكَّةَ فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِهٌ فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ وَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ أَتَاهُ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ بَعْثًا فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ وَذَلِكَ بَعْثُ كَلْبٍ وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَمْ يَشْهَدْ غَنِيمَةَ كَلْبٍ فَيَقْسِمُ الْمَالَ وَيَعْمَلُ فِي النَّاسِ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُلْقِي الْإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ فِي الْأَرْضِ فَيَلْبَثُ سَبْعَ سِنِينَ ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ
قَالَ أَبُو دَاوُد قَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ هِشَامٍ تِسْعَ سِنِينَ و قَالَ بَعْضُهُمْ سَبْعَ سِنِينَ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَقَالَ تِسْعَ سِنِينَ قَالَ أَبُو دَاوُد و قَالَ غَيْرُ مُعَاذٍ عَنْ هِشَامٍ تِسْعَ سِنِينَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَحَدِيثُ مُعَاذٍ أَتَمُّ

سنن ترمذی

2158 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَال سَمِعْتُ زَيْدًا الْعَمِّيَّ قَال سَمِعْتُ أَبَا الصِّدِّيقِ النَّاجِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ
خَشِينَا أَنْ يَكُونَ بَعْدَ نَبِيِّنَا حَدَثٌ فَسَأَلْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيَّ يَخْرُجُ يَعِيشُ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ تِسْعًا زَيْدٌ الشَّاكُّ قَالَ قُلْنَا وَمَا ذَاكَ قَالَ سِنِينَ قَالَ فَيَجِيءُ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَيَقُولُ يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِي أَعْطِنِي قَالَ فَيَحْثِي لَهُ فِي ثَوْبِهِ مَا اسْتَطَاعَ أَنْ يَحْمِلَهُ
قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ اسْمُهُ بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو وَيُقَالُ بَكْرُ بْنُ قَيْسٍ


سنن ابن ماجہ
4072 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ
بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَ فِتْيَةٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ فَلَمَّا رَآهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ وَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ قَالَ فَقُلْتُ مَا نَزَالُ نَرَى فِي وَجْهِكَ شَيْئًا نَكْرَهُهُ فَقَالَ إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ اخْتَارَ اللَّهُ لَنَا الْآخِرَةَ عَلَى الدُّنْيَا وَإِنَّ أَهْلَ بَيْتِي سَيَلْقَوْنَ بَعْدِي بَلَاءً وَتَشْرِيدًا وَتَطْرِيدًا حَتَّى يَأْتِيَ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَعَهُمْ رَايَاتٌ سُودٌ فَيَسْأَلُونَ الْخَيْرَ فَلَا يُعْطَوْنَهُ فَيُقَاتِلُونَ فَيُنْصَرُونَ فَيُعْطَوْنَ مَا سَأَلُوا فَلَا يَقْبَلُونَهُ حَتَّى يَدْفَعُوهَا إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فَيَمْلَؤُهَا قِسْطًا كَمَا مَلَئُوهَا جَوْرًا فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَأْتِهِمْ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ

4074 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتَتِلُ عِنْدَ كَنْزِكُمْ ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ ابْنُ خَلِيفَةٍ ثُمَّ لَا يَصِيرُ إِلَى وَاحِدٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَطْلُعُ الرَّايَاتُ السُّودُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فَيَقْتُلُونَكُمْ قَتْلًا لَمْ يُقْتَلْهُ قَوْمٌ ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا لَا أَحْفَظُهُ فَقَالَ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَبَايِعُوهُ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ فَإِنَّهُ خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِيُّ[/arabic]
 

arifkarim

معطل
چلیں‌ آپ صرف یہ بتا دیں‌
کہ قرآن میں کتنے انبیاء علیہ السلام کا ذکر ہے۔
اور دنیا میں‌ کتنے انبیاء تشریف لےلائے

بس۔
آپ یہ بتا دیں‌ پھر میں‌آپ کو امام مہدی کا نزول بمطابق احادیث بتاؤں‌گا۔

دنیا میں تقریبا 1 لاکھ 24 ہزار انبیاء کرام تشریف لائے۔ قرآن کریم قریبا 28 انبیاء کا ذکر ہے
 

گرو جی

محفلین
دنیا میں تقریبا 1 لاکھ 24 ہزار انبیاء کرام تشریف لائے۔ قرآن کریم قریبا 28 انبیاء کا ذکر ہے

آپ کہہ رہے ہی کہ قرآن مجید میں تقریباً 28 انبیاء کا ذکر ہے جبکہ آپ یہ بھی کہتے ہی کہ دنیا میں تقریباً 1،24،000 انبیاء تشریف لائے۔ تو اگر قرآن مجید کی رو سے دیکھا جائے تو صرف 1،24،000 انبیاء کا ذکر قابلِ قبول نہیں‌ہے۔
سمجھانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ کچھ چیزوں‌کا ذکر اگر قرآن مجید میں‌نہیں ہے اور احادیث میں ‌ہے تو ان کی صحت سے انکار نہیں‌جا سکتا۔ یہی معاملہ حضرت امام مہدی کے نزول کے لئے بھی ہے ۔ کیوں کہ قرآن مجید میں ذکر نہیں‌ہے اور احادیث میں‌ہے۔ لہذا اس بات سے انکار کرنا بھی انکارِ احادیث ہے۔
میں‌اس معاملے میں‌ریسرچ کر رہا ہو‌ں‌ نبیل بھائی اس سلسلے میں‌اور کوئی جلدی نہیں‌ہے مجھے لہذا آپ کے طنز کو ہنس کے سہہ گیا ہوں‌۔
 

arifkarim

معطل
آپ کہہ رہے ہی کہ قرآن مجید میں تقریباً 28 انبیاء کا ذکر ہے جبکہ آپ یہ بھی کہتے ہی کہ دنیا میں تقریباً 1،24،000 انبیاء تشریف لائے۔ تو اگر قرآن مجید کی رو سے دیکھا جائے تو صرف 1،24،000 انبیاء کا ذکر قابلِ قبول نہیں‌ہے۔
سمجھانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ کچھ چیزوں‌کا ذکر اگر قرآن مجید میں‌نہیں ہے اور احادیث میں ‌ہے تو ان کی صحت سے انکار نہیں‌جا سکتا۔ یہی معاملہ حضرت امام مہدی کے نزول کے لئے بھی ہے ۔ کیوں کہ قرآن مجید میں ذکر نہیں‌ہے اور احادیث میں‌ہے۔ لہذا اس بات سے انکار کرنا بھی انکارِ احادیث ہے۔
میں‌اس معاملے میں‌ریسرچ کر رہا ہو‌ں‌ نبیل بھائی اس سلسلے میں‌اور کوئی جلدی نہیں‌ہے مجھے لہذا آپ کے طنز کو ہنس کے سہہ گیا ہوں‌۔

میں جانتا ہوں آپ اس سلسلہ میں جو بھی ''مستند'' حدیث پیش کریں گے، اسکی تشریح بھی باقی مولویوں کی طرح لفظی ہوگی کہ جو کچھ حدیث میں لکھا ہے، وہ ہو بہو ایسا ہی ہوگا!
 

گرو جی

محفلین
میں جانتا ہوں آپ اس سلسلہ میں جو بھی ''مستند'' حدیث پیش کریں گے، اسکی تشریح بھی باقی مولویوں کی طرح لفظی ہوگی کہ جو کچھ حدیث میں لکھا ہے، وہ ہو بہو ایسا ہی ہوگا!

تو آپ کیا چاہتے ہیں کہ تشریح آپ کے مطابق پیش کی جائے؟؟
جناب جنہیں آُپ مولوی کہتے ہی انہوں نے اپنی زندگی گذاری ہوتی ہے فقہ کی تعلیم لیتے اور دیتے ہوئے اور لوگ انہیں‌دہ منٹ میں رد کر دیتے ہیں

آپ ایسا کریے گا کہ جو احادیث میں یہاں نقول کروں گا آپ ان کی اپنے انداز میں تشریح کر دیجیئے گا۔
 

دوست

محفلین
میں جانتا ہوں آپ اس سلسلہ میں جو بھی ''مستند'' حدیث پیش کریں گے، اسکی تشریح بھی باقی مولویوں کی طرح لفظی ہوگی کہ جو کچھ حدیث میں لکھا ہے، وہ ہو بہو ایسا ہی ہوگا!
تو اس بار کسی مستری کو بلا لیتے ہیں، کوئی پلمبر، کوئی گاڑی ٹھیک کرنے والا وہ اچھی تشریح‌ کردے گا اور "لفظی"‌ بھی نہیں‌ عملی ہوگی۔ مولوی تو چونکہ ساری عمر جھک مارتا ہے، فقہ حدیث کی بجائے نجانے کیا الم غلّم اپنے دماغ میں ٹھونستا رہتا ہے۔
 

arifkarim

معطل
تو آپ کیا چاہتے ہیں کہ تشریح آپ کے مطابق پیش کی جائے؟؟
جناب جنہیں آُپ مولوی کہتے ہی انہوں نے اپنی زندگی گذاری ہوتی ہے فقہ کی تعلیم لیتے اور دیتے ہوئے اور لوگ انہیں‌دہ منٹ میں رد کر دیتے ہیں

آپ ایسا کریے گا کہ جو احادیث میں یہاں نقول کروں گا آپ ان کی اپنے انداز میں تشریح کر دیجیئے گا۔

اللہ تعالی نے ہر اک کو دماغ علماء کی باتوں پر آنکھیں بند کر کے یقین کرنے کیلئے نہیں دیا۔ جب تک کسی بات میں کوئی حکمت نہ ہو، وہ بات چاہے حدیث سے آئے یا کسی عالم فاضل کی طرف سے، اسکا یقین کرلینا جہالت ہے!
 

زھرا علوی

محفلین
ڈاکٹر فاروق صاحب سے ایک سوال کرنا چاہتی ہوں ایک مشہور حدیث ہم سنتے آئے ہیں ۔۔۔۔۔۔

"علی علیہالسلام کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون علیہالسلام کی موسیٰ علییہ السلام سے ہے"

آپ سے سوال اس حدیث کی صحت اور تشریح کی بابت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔"صحت اور تشریح؟"
 

زھرا علوی

محفلین
اور اس روایت کے لیے ترمذی تشریف کا حوالہ دے رہی ہوں۔۔۔۔۔۔


[ame]http://www.youtube.com/watch?v=qe0xvaixq2M&feature=related[/ame]
 
بہن زہرا، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ، اسلام کی ایک نہایت عظیم و برگزیدہ شخصیت ہیں۔
میری روایات دانی بہت ہی کمزور ہے اور میں ان تمام روایتوں سے جو ضوء القران پر پوری نہیں اترتی ہیں بہت ہی دور رہتاہوں۔ بہت معذرت چاہتا ہوں کہ اس بارے میں میرے پاس کوئی معلومات نہیں ہے۔ کچھ دوسرے حضرات اس سلسلے میں آپ کی بہتر مدد کرسکتے ہیں۔
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم
بھائی فاروق ہم کہا آپ کو ناراض کر سکتے ہیں :)

بخاری
[arabic]
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ

بَاب نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَام
3192 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلًا فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ حَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ
{ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا }[/arabic]

[arabic]3193 - حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ
تَابَعَهُ عُقَيْلٌ وَالْأَوْزَاعِيُّ[/arabic]

بھائی میرے ! میرے کچھ مصروفیات ہیں اسی وجہ سے ٹائپنگ کے لیے کم وقت ملتا ہے ورنہ اس موضوع پر ہے ایک کتاب میرے پاس " علامت قیامت اور نزول عیسیٰ علیہ السلام از مفتی محمد رفیع عثمانی حفظہ اللہ"

اللہ اکبر کبیرا
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top