یوم خواتین __ 8 مارچ 2021

جاسم محمد

محفلین
مومن فرحین
سسٹر میں حدود جانتی ہوں اللہ کاشکر ہے میں نے اسلامک ہسٹری پڑھی ہے تھوڑا بہت جانتی ہوں آپ نے اس سے پہلے لکھا ا تھا کہ کیا صحیح ہے کیا غلط اس پر میں نے کہا ہے کہ میں نے غلط کہیں نہیں کہا ہے ۔۔۔ شاید میں آپ کی بات سمجھنے میں غلطی کر گئی ہوں۔۔۔ آپ کا کہنے کا مقصد یہ تھا کہ۔۔۔ شریعت میں ہو سکتا ہے اس کی گنجائش ہو جو میں نے میڈیکل اور پولیس سروس میں عورتوں کے کام۔کرنے کے بارے میں سوال اٹھائے ہیں؟

مسئلہ یہ ہے سسٹر کہ میں نے میڈیکل اور پولیس سروس میں جو باتیں میں بتائی ہیں کہ یہ سب ہوتا ہے انہیں معیوب سمجھا جاتا ہے ۔۔۔ ڈیسک جاب تو پھر ان کے مقابلے میں زیادہ آسان ہوئی ۔۔۔ لیکن ان کو شرعی لحاظ سے غلط کہہ دیا جاتا ہے۔۔۔ میں پرسنلی کسی شعبے کو غلط نہیں سمجھتی ہوں عورت کے لئے۔۔۔ حدود کا خیال رلھیں۔۔۔ جتنا ممکن ہو اچھی طرح لباس پہنیں۔۔۔ لیکن ڈیسک جاب جیسے کمپیوٹر سائنس یا کاکاؤنٹنک۔۔ بینک کنگ ان جابز کو غلط کہہ دیا جاتا ہے ۔۔۔ اس پر میں کہہ رہی ہوں کہ یہ جابز تو زیادہ آسان ہوئیں
۔۔۔ یہ کام کرنے پر شریعت کی کیسی خلاف ورزی۔۔۔
کیا آپنکو سمجھ آیا کہ میرا کیا پوائمٹ ہے اصل میں۔۔۔آپ بھی میرا اصل پوائنٹ صحیح سے نہیں سمجھ سکی ہیں ۔۔۔ اگر کلئیر اب کر سکی ہوں میں اچھی طرح تو پلیز بتائیے گا۔۔۔
جس ملک میں عورت وزیر اعظم بن سکتی ہے وہاں وہ کچھ بھی کر سکتی ہے۔ قدغن مردوں سے زیادہ عورتوں نے خود پر لگا رکھی ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ وگرنہ ملالہ، بینظیر، فاطمہ جناح بھی پاکستانی خواتین ہی تھی جنہوں نے دنیا بھر میں اپنا لوہا منوایا۔
اگر پاکستانی خواتین متحد ہو جائیں تو مردوں کا معاشرہ بھی کچھ نہیں کر سکتا۔
 

ہانیہ

محفلین
جس ملک میں عورت وزیر اعظم بن سکتی ہے وہاں وہ کچھ بھی کر سکتی ہے۔ قدغن مردوں سے زیادہ عورتوں نے خود پر لگا رکھی ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ وگرنہ ملالہ، بینظیر، فاطمہ جناح بھی پاکستانی خواتین ہی تھی جنہوں نے دنیا بھر میں اپنا لوہا منوایا۔

آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ جب عورت چاہے تو کیا نہیں کر سکتی ہے۔۔۔ لیکن ملالہ کو ہم نے اس ملک سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔۔۔ فاطمہ جناح کے مقابلے میں ایوب خان جیسے ڈکٹیٹر کو فوقیت دی اا۔۔۔فاطمہ جناح کو جن تکلیفوں کا اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا ۔یہ ایک کہانی ہے ووری۔۔۔ کیسے کیسے ہتھکنڈے نہیں آزمائے گئے ان کا راستہ روکنے کے لئے۔۔۔۔ اور بینظیر کو ہم نے شہید کر دیا۔۔۔ آج تک ہم بینظیر کے کردار پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔۔۔ بینظیر کے قاتل نہیں پکڑے جا سکے۔۔۔ شاید وہ اپنے شوہر کے ہاتھوں ہی برباد ہوئیں اور ہو سکتا ہے وہی ان کے قتل میں انوالو ہو۔۔۔ اس بارے سب اخبارات میں آتا ہے۔۔۔۔ اس سب کا کس کا قصور ہوا۔۔۔۔ باہمت عورت کو بھی تکلیفیں اٹھانا پڑتی ہیں اور زیادہ اٹھانا پڑتی ہیں۔۔۔ہمارا معاشرہ باہمت عورت کو بھی توڑ دیتا ہے۔۔۔
 
ایک بات جو بار بار دہرائی جا رہی ہے وہ یہ کہ بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ گھر کا ہر فرد کمانے میں حصہ ڈالے، ایک آدمی کی آمدن سے گزارا ہونا مشکل ہے ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
سوال مگر یہ ہے کہ یہ کلیہ کس اصول کے تحت اخذ کیا گیا ہے کہ ایک گھرانے کے تمام افراد اگر لیبر مارکیٹ میں آن کھڑے ہو تو اس کا نتیجہ لازماً آمدن کی بڑھوتری کی صورت میں نکلے گا؟
کیا معاشی سرگرمیاں یا معیشت کا حجم محض دستیاب افرادی قوت میں اضافے سے خود بخود بڑھ جائیں گے؟؟؟ کیا اس وقت لیبر مارکیٹ میں موجود ہر فرد کو روزگار میسر ہے؟؟
آپ بے شک گھروں میں بیٹھی خواتین کو (جنہیں عضوِ معطل سمجھنے سے بڑھ کر ان کی کوئی توہین نہیں ہو سکتی) ضرور لیبر مارکیٹ میں اتار دیں ۔۔۔ انہیں ترجیحاً ملازمتیں بھی فراہم کردیں ۔۔۔ مگر معیشت کا حجم بڑھے بغیر نئی ملازمتیں پیدا نہیں ہوں گی ۔۔۔ اور آخر میں محض اتنا ہوگا کہ بے روزگاری کی شرح مزید بڑھے گی ۔۔۔
فری مارکیٹ اکانومی میں لیبر مارکیٹ کو کتنی افرادی قوت درکار ہے، اس کو جانچنے کے کئی اشاریے ہوسکتے ہیں ۔۔۔ اگر معیشت کو واقعی افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہو تو اس کا نتیجہ کئی صورتوں میں سامنے آسکتا ہے ۔۔۔ یہ پیداواری سیکٹر میں خواتین کی بہرصورت شرکت میں ہو سکتا ہے، جیسے کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران امریکہ میں دیکھا گیا (جنگ کے بعد جب معاشی سرگرمیاں معمول پر آگئیں تو پھر انہی خواتین کو مختلف حیلوں بہانوں سے واپس گھروں میں بٹھا دیا گیا) ۔۔۔ یہ دستیاب افرادی قوت کی اجرتوں میں اضافے کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے، جیسا کہ کئی یورپی ممالک میں صورتحال ہے کہ کمپنیز اچھی افرادی قوت کے لیے مسابقت کرتی ہیں ۔۔۔ یہ افرادی قوت کی درآمد کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ خلیجی ممالک میں ہوتا ہے، یا امیگریشن آفر کرنے والے ممالک کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں اس مزعومہ خوشحالی کے لیے گھر کے ہر فرد کا کام کرنا بھی کوئی مطلق اصول نہیں، نہ ہی یہ خوشحالی کا ضامن ہے۔
عام مشاہدے کی بات ہے کہ ایک گھر میں دو دو تین تین کام کرنے والے ہوتے ہیں، پھر بھی تنگی کا شکار رہتے ہیں، جبکہ کسی اور گھر میں محض ایک کمانے والا ہوتا ہے مگر گزارا اچھا ہورہا ہوتا ہے۔
پھر یہ کہ نصف آبادی کو گھر بٹھا کر کھلانے والی بات بھی انتہائی سطحی مغالطہ ہے ۔۔۔ ایک تو یہ کہ آبادی کا نصف ضرور عورتوں پر مشتمل ہے، مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ نصف پورے کا پورا کام کرنے کی صلاحیت رکھنے والوں پر مشتمل ہے۔ اس نصف میں چھوٹی بچیاں بھی شامل ہیں، جو قانونا بھی کام نہیں کرسکتیں ۔۔۔ اس نصف میں بزرگ بھی شامل ہیں جن میں اب کام کرنے کی سکت نہیں رہی۔
پھر اگر ہر فرد ہی گھر کے رزق میں حصہ ڈالنے کا ذمہ دار ہے ہی تو بچوں اور بزرگوں کو کیوں اس سے مستثنیٰ کیا جائے۔ بچوں کو بھی کام پر لگا دیں، آمدن اور بڑھ جائے گی!!!
اصل بات پھر وہی ہے ۔۔۔ کہ جدید فیمنزم اور لبرلزم کی نظر میں گھر سنبھالنا اور اولاد کی تربیت کرنا سرے سے کوئی کام ہی نہیں ہیں (لائق تحسین ہونا تو دور کی بات)، اس لیے ان میں مشغول عورتوں کو عضوِ معطل قرار دے کر ان کی توہین کی جاتی ہے۔
 
آخری تدوین:

اے خان

محفلین
ہانیہ صاحبہ اکیلی ہیں اس وجہ سے زیادہ مزہ نہیں آرہا کچھ لوگ نیوٹرل ہیں ،ابھی سے میں مکالمے میں ہانیہ صاحبہ کا ساتھ دوں گا تاکہ صحت مند ماحول میں مباحثہ ہوتا رہے
 
آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ جب عورت چاہے تو کیا نہیں کر سکتی ہے۔۔۔ لیکن ملالہ کو ہم نے اس ملک سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔۔۔ فاطمہ جناح کے مقابلے میں ایوب خان جیسے ڈکٹیٹر کو فوقیت دی اا۔۔۔فاطمہ جناح کو جن تکلیفوں کا اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا ۔یہ ایک کہانی ہے ووری۔۔۔ کیسے کیسے ہتھکنڈے نہیں آزمائے گئے ان کا راستہ روکنے کے لئے۔۔۔۔ اور بینظیر کو ہم نے شہید کر دیا۔۔۔ آج تک ہم بینظیر کے کردار پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔۔۔ بینظیر کے قاتل نہیں پکڑے جا سکے۔۔۔ شاید وہ اپنے شوہر کے ہاتھوں ہی برباد ہوئیں اور ہو سکتا ہے وہی ان کے قتل میں انوالو ہو۔۔۔ اس بارے سب اخبارات میں آتا ہے۔۔۔۔ اس سب کا کس کا قصور ہوا۔۔۔۔ باہمت عورت کو بھی تکلیفیں اٹھانا پڑتی ہیں اور زیادہ اٹھانا پڑتی ہیں۔۔۔ہمارا معاشرہ باہمت عورت کو بھی توڑ دیتا ہے۔۔۔
اس ملک سے بھاگنے پر مجبور (جو کہ ڈیبیٹبل اشو ہے) ہونے والوں کا اگر شمار کریں تو اس میں بھی مردوں کی تعداد عورتوں سے زیادہ ہی ہوگی ۔۔۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرد ہی ہیں، کیا کچھ نہیں کیا انہوں نے اس ملک کے لیے ۔۔۔ کیا ان کے ساتھ اچھا سلوک ہوا اس ملک میں؟
رہی بات محترمہ فاطمہ جناح کی، تو وہ آج بھی ہر مرد و زن کی نظر میں مادرِ ملت ہی ہیں ۔۔۔ جبکہ ان کے مقابل آنے والا ایوب خان تمام تر ریاستی قوت کے باوجود بھی بالآخر جبر و استبداد کا ایک استعارہ بن کر رہ گیا ہے۔ بینظیر پر بھی جو طعن ہوا، اس کی وجہ محض ان کا عورت ہونا نہیں تھا ۔۔۔ وہ ایک سیاسی شخصیت تھیں اور اس طرح کا طعن و تشنیع ہر سیاسی شخصیت کو بلا امتیازِ جنس برداشت کرنا پڑتا ہے۔ خود بینظیر کو ہی لے لیں ۔۔۔ ان کو تو صرف کردار کشی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کے شوہر نے کردار کشی کے ساتھ ساتھ ۱۰ سال جیل بھی کاٹی! بے نظیر کے حصے میں اگر یہ صعوبت نہیں آئی تو اس کی ایک بڑی وجہ ان کا عورت ہونا ہی تھا۔ قتل تو ان کے والد کا بھی ہوا اور ان کے بھائیوں کا بھی ۔۔۔ اور ان کے قاتل بھی آج تک قانون کی گرفت سے آزاد ہیں۔ اس لیے جو مثالیں آپ دے رہی ہیں وہ محض خلط مبحث کا مظہر ہیں۔ آپ اگر آپ اپنا مقدمہ غلط امثال اور بنیادوں پر کھڑا کریں گی تو اپنا ہی نقصان کریں گی۔
 

ہانیہ

محفلین
اصل بات پھر وہی ہے ۔۔۔ کہ جدید فیمنزم اور لبرلزم کی نظر میں گھر سنبھالنا اور اولاد کی تربیت کرنا سرے سے کوئی کام ہی نہیں ہیں (لائق تحسین ہونا تو دور کی بات)، اس لیے ان میں مشغول عورتوں کو عضوِ معطل قرار دے کر ان کی توہین کی جاتی ہے۔

آپ کی اس بات کی میں بھرپور تائید کروں گی کہ گھر بیٹھی عورتوں ہاؤس وائیوز کو بھی طعنوں کا سامنا ہے۔۔۔ اور صرف یہی نہیں ہے پردہ کرنے پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔۔۔ آزادی مارچ والی عورتیں ہمارے سکولوں میں عورتوں کو اپنی تحریک میں شامل کرنے کے لئے آتی رہتی ہیں۔۔۔ اس میں ایک بار ایک صاحبہ نے میری چادر کو غلامی کہا ۔۔۔ تو میں ان کو جواب دیا کہ یہ غلامی نہیں ہے کیونکہ میں اپنی وجہ سے کسی آدمی کی کسی حس کی تسکین کا باعث بننا برداشت نہیں کر ستکی ہوں۔۔۔۔ جو پردہ نہیں کر رہی ہیں ان کی مرضی لیکن مجھ پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا ہے کیونکہ مجھے کسی مرد کی تعریف کی ضرورت نہیں ہے اور نہ میں اسے اپنے لئے ضروری سمجھتی ہوں اور نہ مجھے کوئی خوشی حاصل ہوگی۔۔۔۔

آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے کہ بچوں کی تربیت دیکھ بھال کرنا زیادہ ضروری ہے اور جو ہاؤس وائیوز پر اوپر انگلی اٹھاتا ہے بالکل غلط کرتا ہے۔۔۔ آزادی مارچ والیاں ایسی عورتوں کا مذاق اڑاتی ہیں
۔۔ ان کا یجنڈا کچھ اور ہے۔۔۔ عورتوں کے لئے آسانی پیدا کرنا نہیں ہے۔۔۔
 
آخری تدوین:

ہانیہ

محفلین
[
ہانیہ صاحبہ اکیلی ہیں اس وجہ سے زیادہ مزہ نہیں آرہا کچھ لوگ نیوٹرل ہیں ،ابھی سے میں مکالمے میں ہانیہ صاحبہ کا ساتھ دوں گا تاکہ صحت مند ماحول میں مباحثہ ہوتا رہے

بھائی اکیلے ہونے پر ساتھ نہ دیں ۔۔۔ اگر آپ کا دماغ میرے موقف کو صحیح سمجھتا ہے تو ساتھ دیں۔۔۔ پھر مجھے خوشی ہوگی۔۔۔:)
 

ہانیہ

محفلین
اس ملک سے بھاگنے پر مجبور (جو کہ ڈیبیٹبل اشو ہے) ہونے والوں کا اگر شمار کریں تو اس میں بھی مردوں کی تعداد عورتوں سے زیادہ ہی ہوگی ۔۔۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرد ہی ہیں، کیا کچھ نہیں کیا انہوں نے اس ملک کے لیے ۔۔۔ کیا ان کے ساتھ اچھا سلوک ہوا اس ملک میں؟
رہی بات محترمہ فاطمہ جناح کی، تو وہ آج بھی ہر مرد و زن کی نظر میں مادرِ ملت ہی ہیں ۔۔۔ جبکہ ان کے مقابل آنے والا ایوب خان تمام تر ریاستی قوت کے باوجود بھی بالآخر جبر و استبداد کا ایک استعارہ بن کر رہ گیا ہے۔ بینظیر پر بھی جو طعن ہوا، اس کی وجہ محض ان کا عورت ہونا نہیں تھا ۔۔۔ وہ ایک سیاسی شخصیت تھیں اور اس طرح کا طعن و تشنیع ہر سیاسی شخصیت کو بلا امتیازِ جنس برداشت کرنا پڑتا ہے۔ خود بینظیر کو ہی لے لیں ۔۔۔ ان کو تو صرف کردار کشی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کے شوہر نے کردار کشی کے ساتھ ساتھ ۱۰ سال جیل بھی کاٹی! بے نظیر کے حصے میں اگر یہ صعوبت نہیں آئی تو اس کی ایک بڑی وجہ ان کا عورت ہونا ہی تھا۔ قتل تو ان کے والد کا بھی ہوا اور ان کے بھائیوں کا بھی ۔۔۔ اور ان کے قاتل بھی آج تک قانون کی گرفت سے آزاد ہیں۔ اس لیے جو مثالیں آپ دے رہی ہیں وہ محض خلط مبحث کا مظہر ہیں۔ آپ اگر آپ اپنا مقدمہ غلط امثال اور بنیادوں پر کھڑا کریں گی تو اپنا ہی نقصان کریں گی۔

سر ملالہ پر لڑکی ہونے پر بہت تنقید ہوئی ہے۔۔۔ سب سے پہلا اعتراض یہی ہے کہ وہ ایک بچی تھی اور وہ کیسے کام کر سکتی تھی یقینا وہ کسی کی آلہ کار تھیجبھی اسے طالبان نے نشانہ بنایا۔۔۔

اور سر فاطمہ جناح کو آج تو مانا جاتا ہے مادر ملت لیکن ان کے ساتھ جو ہتھکنڈے آزمائے گئے وہ کیا ہوا۔۔۔ سب ہسٹری میں لکھا ہوا ہے۔۔۔۔ کس طرح ان کے خطاب سینسر کئے جاتے تھے۔۔۔ ان پر بھی کیچڑ اچھالا گیا تھا کہ وہ شادی نہیں کرتی تھیں۔۔۔ یہ سب ہسٹری کا حصہ ہے۔۔۔ سر عورت ہونے کے طعنے۔۔۔ گھر سے نکلنے کے طعنے سننے کو ملتے ہیں۔۔۔ کیونکہ یہ برا سمجھا جاتا ہے۔۔۔ آپ اس ٹوپک میں دیکھ لیں۔۔۔ اگر میری یہ بات غلط ہو تو۔۔۔

سر میری فیملی کے افراد بینظیر صاحبہ کے ہاؤس ہولڈ سٹاف میں رہے ہیں۔۔۔ ان کی کس طرح چالکیوں سے شادی زرداری سے کرائی گئی۔۔۔ یہ ایک بہت لمبا کھیل ہے۔۔۔ جس کی ہماری فیملی گواہ ہے ۔۔۔۔ کس طرح زرداری نے ان سے اور ان کی فیملی سے فائدہ اٹھایا۔۔۔ یہ سب باتیں زبان زد خاص و عام ہیں ۔۔۔ اور آخر میں ان کو شہید کیا گیا اور ان کی پارٹی اب زرداری کے ہاتھ میں ہے۔۔۔ وہ عورت ہونے کی وجہ سے بہت جگہ پر مجبور تھیں۔۔۔
 

ہانیہ

محفلین
میرے نانا مادر ملت کی تحریک کے ورکر تھے۔۔۔ پورا محلہ ایک طرف ہوتا تھا ۔۔۔ اور وہ ایک طرف۔۔۔۔ ان کو راستہ روک روک کر سوال لوگ پوچھتے تھے۔۔۔ فاطمہ جناح کے کردار پر کیچڑ اچھالتے تھے۔۔۔ کہتے تھے یہ عورت ہے کیا کرے گی۔۔۔خوشنما باتیں کچھ اور ہو گئی ہیں اب۔۔۔ اس وقت جو ہتھا وہ کچھ اور تھا۔۔ عورت کی تذلیل کی جاتی ہے عورت ہونے کی بنیاد پر۔۔۔ ہر عورت کو سننا پڑتی ہیں۔۔۔ کہیں نا کہیں سے۔۔۔ شریعت کے خلاف جانے پر۔۔۔ کہ گھر سے نکل رہی ہے۔۔۔۔۔ عورت ہونے کا طعنہ ملتا ہے۔۔۔ عورت ہو کیا کر لو گی۔۔۔ مردوں کو مرد ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے؟
 

سیما علی

لائبریرین
کیا وہ کئی سیر وزنی دیگوں میں روزانہ کفگیر چلا سکتی ہیں، انہیں اٹھا اٹھا کر گاڑی میں لوڈ ان لوڈ کرسکتی ہیں؟؟؟
کیا وہ عیدین اور تہواروں کے سیزن میں رات رات بھر اکیلی دوکان میں بیٹھ کر سلائی کرسکتی ہیں؟؟؟
آخر کہاں تک ان کو ان کی فطرت کے خلاف لے جایا جائے گا؟؟؟
جناب ہم سے گھر کی دیگچی کی ڈوئی چل جائے تو بہت ہے اپنے بچوں کے کپڑے سی لیں اللّہ اللّہ خیر ۔پچھلی مرتبہ جب رضا کے پاس گئیے تو ائیر پورٹ سے فرمائشی پروگرام شروع ماں گھر پہنچ کے ارہر کی دال چاول بنا دیجے گا اور
ماں کوٹ کی سلائی کھل گئی ہے ایک آنٹی کے پاس لے گیا تھا 80 پاؤنڈ کہہ رہی تھیں اتنے پیسے بھلا ذرا سے کام کے ٹھیک کرنے کے لئے ،ماں پلیز سی دیجیے گا ۔۔۔یہاں آکر پتہ چلا کہ آپ کتنے کام ہمارے علم میں لائے بغیر کر دیتی تھیں ۔۔۔۔
 
آخری تدوین:
Top