الف نظامی

لائبریرین
کمپیوٹری انتخابی فہرستوں کے پائلٹ پراجیکٹ پر 80 فیصد کام مکمل ، برقی ووٹنگ مشینیں مقامی صنعتوں سے تیار کرائی جائیں گی۔
برقی ووٹنگ کا طریقہ کار پہلے شہری علاقوں میں نافذ ہوگا ، وزارت قانون کو قانون سازی کے لئے کہہ دیا۔ ذرائع الیکشن کمشن
اسلام آباد --- الیکشن کمشن آف پاکستان نے ملک بھر کی ووٹر فہرستوں کو آئندہ 6 ماہ میں کمپیوٹرائزڈ کرنے اور آئندہ عام انتخابات میں برقی ووٹنگ مشین کے استعمال کے دو منصوبوں کو مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں پائلٹ پروگرام کے تحت چاروں صوبوں سے چار اضلاع کو کمپیوٹری ووٹر فہرستیں تیار کرنے کے لئے منتخب کیا گیا تھا جن سے موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق ان اضلاع میں 80 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے اور 2002 اور 2007 کی ووٹر فہرستوں کے ریکارڈ سے ہی ان اضلاع میں کمپیوٹری ووٹر فہرستوں کو تیار کیا گیا ہے۔ الیکشن کمشن کے ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمشن میں موجود ڈیٹا اور نادرا کےڈیٹا سے ملک بھر کی ووٹر فہرستوں کو آئندہ 6 ماہ میں تیار کر لیا جائے گا جبکہ آئندہ انتخابات میں برقی ووٹنگ مشین کے استعمال کے لیے مقامی صنعت کی تیار کردہ برقی مشینوں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس ضمن میں اب تک مقامی سطح پر تیار مشینوں کو الیکشن کمشن میں تعارف کے لئے پیش کیا گیا ہے۔ مذکوہ مشینیں کے آر ایل انڈسٹڑی ، ٹیلی فون انڈسٹری اور وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماتحت صنعتی ادارے میں تیار کی گئی ہیں۔ ان کی لاگت بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی مشینوں سے کم ہے۔ اس منصوبے پر 10 کروڑ ڈالر کے اخراجات آئیں گے اور دو لاکھ مشینیں درکار ہوں گی۔ پہلے مرحلے میں اس نئے طریقہ انتخاب کو شہری علاقوں میں استعمال کیا جائے گا جبکہ دور دراز دیہی علاقوں میں انتخابات برقی مشینوں کے بغیر منعقد ہوں گے۔ اس نئے طریقہ انتخاب کو قانونی شکل دینے اور قانون سازی کے لئے الیکشن کمشن نے وزارت قانون کو آگاہ کر دیا ہے۔ برقی ووٹنگ مشین کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لئے آئندہ ماہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔
بحوالہ : روزنامہ ایکسپریس 11 نومبر
 

الف نظامی

لائبریرین
Aug 23, 2017
وزیر قانون زاہد حامد نے قومی اسمبلی میں بتایا الیکشن کمشن بائیو میٹرک کی 300 اور الیکٹرانک ووٹنگ کی 400 مشینیں منگوا چکا ہے، ضمنی انتخاب میں اس کا تجربہ کریں گے، کامیاب ہونگے تو ترمیم کر لیں گے، ابھی انتخابات میں 10ماہ باقی ہیں۔

Sep 18, 2017
میڈیا رپورٹس میں الیکشن کمیشن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ این اے 120کے ضمنی انتخاب میں ووٹرز نے بائیو میٹرک ووٹنگ میں دلچسپی لی۔ 39 پولنگ سٹیشنز پر 100 بائیو میٹرک مشینیں استعمال کی گئیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں بائیو میٹرک مشینوں کے اعداد و شمار کچھ اس طرح سے ہیں کہ 22 ہزار 102 ووٹرز میں سے 19 ہزار 483 ووٹرز کی تصدیق ہوئی ہے۔ 2 ہزار 611 ووٹرز کی بائیومیٹرک تصدیق نہیں ہو سکی۔پائلٹ پراجیکٹ کی تفصیلی رپورٹ متعلقہ حکام کو ارسال کی جائیگی۔

Oct 26, 2017
الیکشن کمیشن کی جانب سے این اے 4 پشاور کے ضمنی انتخاب میں پہلی بار الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال کیا گیا۔
35پولنگ سٹیشنوں پر الیکٹرانک مشینیں استعمال میں لائی گئیں جس کیلئے تجربہ کار آپریٹر تعینات کئے گئے تھے ۔26اکتوبر کو پشاورکے حلقہ این اے 4میں ہونے والے ضمنی انتخاب کیلئے 35 پولنگ سٹیشنوں پر الیکٹرانک مشینوں کا استعمال کیا گیا۔الیکشن کمیشن کے مطابق تجرباتی طور پر ان الیکٹرانک مشینوں کا استعمال کیا گیا ہے ۔الیکٹرانک مشین کے ذریعے ووٹ 20سے30سیکنڈ میں کاسٹ کیاگیا جبکہ اس کے لئے تجربہ کار آپریٹر ز تعینات کئے گئے تھے ۔
 

الف نظامی

لائبریرین
کیا برقی ووٹنگ سے شفافیت کی توقع ہے یا اگلے پانچ سال پھر "دھاندلی" کا غوغا سننے کے لیے تیار رہیں؟
برقی ووٹنگ میں "گڑ بڑی " کا غوغا امریکہ و انڈیا میں بھی ہو رہا ہے لیکن بنیادی طور پر اس کا مقصد ووٹنگ کا بہتر نظام متعارف کروانا ہے۔

Nov 23, 2017
ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن ڈاکٹراختر نذیر کا کہنا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں لیکن الیکشن میں الیکٹرانک مشین استعمال نہیں کریں گے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
یوں ۲۰۱۰ سے اس مسئلے کا ڈھول پیٹا جا رہا تھا۔ آج وزیر اعظم عمران خان نے دوبارہ ایک بیان دے دیا کہ الیکٹرانک ووٹنگ لائیں گے انتخابی اصلاحات کے تحت۔ ۲۰۲۰ میں دس سال پرانا مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ ۲۰۳۰ میں بھی کوئی یہ بیان دے رہا ہوگا کہ الیکٹرانک ووٹنگ لائیں گے۔
 
آخری تدوین:

الف نظامی

لائبریرین

الف نظامی

لائبریرین
پاکستان نے انتخابات کیلئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین تیار کرلی، مشین نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس نے تیار کی ہے۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو 2 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کے ایک حصے میں اتنخابی نشانات ہوں گے جبکہ دوسرا حصہ پریذائڈنگ افسر کے پاس ہوگا، پریذائڈنگ افسر ہی مشین آن کرسکے گا، مشین کے ذریعے ووٹر کسی بھی نشان پر کلک کر کے ووٹ ڈال سکے گا، انتخابی نشان پر کلک کرنے پر الیکٹرک ووٹ کاسٹ ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مشین کے ذریعے بیلٹ پیپر بھی پرنٹ ہوسکے گا، مشین الیکٹرک ہے اور بیلٹ پیپر پر ووٹ کاسٹنگ کیلئے استعمال بھی ہوسکتی ہے، مشین کو ہم نادرا، نسٹ اور کامسیٹ کیساتھ شیئر کرنے جا رہے ہیں، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الیکٹرانکس نے زبردست کام کیا ہے، ووٹنگ مشین پر کام جاری ہے اور آخری مراحل میں ہے۔

فواد چودھری نے مزید کہا کہ ڈسکہ اور باقی جگہوں میں جو کچھ ہوا، اس سے نمٹنے کیلئے یہ بہت ضروری ہے، مشین کے ذریعے الیکشن پر امن ہونگے اور دھاندلی سے چھٹکارا مل جائے گا۔
 

جاسم محمد

محفلین
فواد چودھری نے مزید کہا کہ ڈسکہ اور باقی جگہوں میں جو کچھ ہوا، اس سے نمٹنے کیلئے یہ بہت ضروری ہے، مشین کے ذریعے الیکشن پر امن ہونگے اور دھاندلی سے چھٹکارا مل جائے گا۔
پاکستانیوں سے کچھ بعید نہیں۔ انہوں نے ووٹنگ مشین کے ذریعہ بھی دھاندلی کا طریقہ ڈھونڈ لینا ہے :)
 

زیک

مسافر
کیا برقی ووٹنگ سے شفافیت کی توقع ہے یا اگلے پانچ سال پھر "دھاندلی" کا غوغا سننے کے لیے تیار رہیں؟
اس میں کئی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ایک تو مشینوں کی ٹیسٹنگ۔ دوسرے مشینوں کو انٹرنیٹ کنکشن نہ دینا تاکہ ہیک نہ ہو سکیں۔ تیسرے آڈٹ ٹریل کے لئے پیپر بیلٹ پرنٹ ہونا۔ اس سب پر دنیا میں کافی کام ہوا ہے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ پاکستان نے کتنا سوچ سمجھ کر ڈیزائن کیا ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
جنرلائز سٹیٹمنٹ دینا کب بند کرو گے؟
جنرلائزڈ اسٹیٹمنٹ؟ 1970 کے بعد کوئی ایک الیکشن دکھا دیں جہاں دھاندلی، بےضابطگی کی کوئی شکایت نہ آئی ہو۔
انتخابات والے دن کیا ہوتا ہے کسے معلوم نہیں؟ مختلف حیلے بہانوں سے ووٹ کو مینج کیا جاتا ہے۔ پولنگ اسٹیشنز پر دھاوا بولا جاتا ہے۔ جن علاقوں میں کسی پارٹی کا ووٹ زیادہ ہو وہاں جان بوجھ کر انتخابی پراسیس سست کر دیا جاتا ہے ۔ پارٹیاں اپنا ووٹ بڑھانےکیلئے گاڑیوں میں خود بندے اکٹھے کر کے لاتی ہیں۔ بعد میں ووٹر کو بریانی، قیمہ والا نان بطور رشوت کھلا دیا جاتا ہے۔
پھر جب انتخابات کا وقت گزر جاتا ہے تو ووٹ کے ڈبے غائب تو کبھی الیکشن کا عملہ غائب۔ حلقوں کے ریٹرننگ آفیسرز تک تمام پولنگ اسٹیشنز کا فارم 45 ہی نہیں بروقت پہنچ پاتا۔ اوپر سے پریزائیڈنگ آفیسرز اور پولنگ ایجنٹس کا مشکوک کردار انتخابی عمل میں چار چاند لگا دیتا ہے۔
مشین ووٹنگ یقینا اچھی کاوش ہے لیکن جب تک اوپر موجود عوامل کا تدراک نہیں کیا جاتا ہے، تب تک انتخابات صاف شفاف نہیں ہو سکتے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
جنرلائزڈ اسٹیٹمنٹ؟ 1970 کے بعد کوئی ایک الیکشن دکھا دیں جہاں دھاندلی، بےضابطگی کی کوئی شکایت نہ آئی ہو۔
انتخابات والے دن کیا ہوتا ہے کسے معلوم نہیں؟ مختلف حیلے بہانوں سے ووٹ کو مینج کیا جاتا ہے۔ پولنگ اسٹیشنز پر دھاوا بولا جاتا ہے۔ جن علاقوں میں کسی پارٹی کا ووٹ زیادہ ہو وہاں جان بوجھ کر انتخابی پراسیس سست کر دیا جاتا ہے ۔ پارٹیاں اپنا ووٹ بڑھانےکیلئے گاڑیوں میں خود بندے اکٹھے کر کے لاتی ہیں۔ بعد میں ووٹر کو بریانی، قیمہ والا نان بطور رشوت کھلا دیا جاتا ہے۔
پھر جب انتخابات کا وقت گزر جاتا ہے تو ووٹ کے ڈبے غائب تو کبھی الیکشن کا عملہ غائب۔ حلقوں کے ریٹرننگ آفیسرز تک تمام پولنگ اسٹیشنز کا فارم 45 ہی نہیں بروقت پہنچ پاتا۔ اوپر سے پریزائیڈنگ آفیسرز اور پولنگ ایجنٹس کا مشکوک کردار انتخابی عمل میں چار چاند لگا دیتا ہے۔
مشین ووٹنگ یقینا اچھی کاوش ہے لیکن جب تک اوپر موجود عوامل کا تدراک نہیں کیا جاتا ہے، تب تک انتخابات صاف شفاف نہیں ہو سکتے۔
سب غلط اور پروپگنڈا، میں ذاتی تین مرتبہ الیکشن کنڈکٹ کروانے کے عمل میں شامل رہا ہوں اور یہ سب باتیں میں نے نہیں دیکھیں۔

جنرلائزیشن کا مطلب یہ ہے کہ ایک جگہ کوئی بے ضابطگی پائی جائے تو اس کی بنا پر ساری جگہوں پر بے ضابطگی ہونا تسلیم کر لیا جائے۔ سپیسیفک بات کو جنرلائز کرنا ہی پروپگنڈا ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
سب غلط اور پروپگنڈا، میں ذاتی تین مرتبہ الیکشن کنڈکٹ کروانے کے عمل میں شامل رہا ہوں اور یہ سب باتیں میں نے نہیں دیکھیں۔
بھائی ایک حلقہ میں کئی سو پولنگ اسٹیشن ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے ہر جگہ بدنظمی نہیں ہوتی۔ حالیہ ڈسکہ کے الیکشن میں بھی صرف 20 پولنگ اسٹیشن پر شکایات ہیں۔ اور ان کی وجہ سے پورے حلقہ کا نتیجہ مشکوک ہو کر روک دیا گیا ہے اور دونوں پارٹیاں لڑ جھگڑ رہی ہیں۔ جب تک ایک بھی پولنگ اسٹیشن پر گڑبڑ ہو رہی ہے، انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھتے رہیں گے۔ ووٹنگ مشین سے شاید جعلی ووٹوں کا خاتمہ ہو جائے لیکن الیکشن کے دن جو مختلف پولنگ اسٹیشن پر بدنظمی، فائرنگ، ہلڑبازی دیکھنے کو ملتی ہے اس کی وجہ سے ہارنے والی جماعت نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ صاف و شفاف الیکشن وہ ہو جہاں ہارنے والے برملا اپنی شکست کا اظہار کریں۔
 

الف نظامی

لائبریرین
بھائی ایک حلقہ میں کئی سو پولنگ اسٹیشن ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے ہر جگہ بدنظمی نہیں ہوتی۔ حالیہ ڈسکہ کے الیکشن میں بھی صرف 20 پولنگ اسٹیشن پر شکایات ہیں۔ اور ان کی وجہ سے پورے حلقہ کا نتیجہ مشکوک ہو کر روک دیا گیا ہے اور دونوں پارٹیاں لڑ جھگڑ رہی ہیں۔ جب تک ایک بھی پولنگ اسٹیشن پر گڑبڑ ہو رہی ہے، انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھتے رہیں گے۔ ووٹنگ مشین سے شاید جعلی ووٹوں کا خاتمہ ہو جائے لیکن الیکشن کے دن جو مختلف پولنگ اسٹیشن پر بدنظمی، فائرنگ، ہلڑبازی دیکھنے کو ملتی ہے اس کی وجہ سے ہارنے والی جماعت نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ صاف و شفاف الیکشن وہ ہو جہاں ہارنے والے برملا اپنی شکست کا اظہار کریں۔
جنرلائز سٹیمنٹ دینے کے بعد اب سپیسیفکلی بات کرنے کی کوئی خاص وجہ ہے؟
یعنی آپ یہ سمجھ چکے ہیں کہ جنرلائز سٹیٹ منٹ درست نہیں ہوتی اور سپیفیک کانٹیکسٹ میں بات کرنا متوازن ہے؟
 

الف نظامی

لائبریرین
10 فروری 2024
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ اگر آج ای وی ایم ہوتی تو میرا یہ پیارا پاکستان بحران سے بچ جاتا۔

اپنے ٹویٹ میں انہوں ںے کہا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے لیے ‘ہماری’ طویل جدوجہد کو یاد رکھیں، ای وی ایم میں کاغذی بیلٹ تھے جنہیں ہاتھ سے گنا جاسکتا تھا (جیسا کہ آج کل کیا جا رہا ہے)، الیکٹرونک ووٹنگ مشین میں ایک سادہ الیکٹرانک کیلکولیٹر/کاؤنٹر بھی تھا جو ہر ووٹ ڈالنے کی لیے دبائے جانے والے بٹن کو ساتھ ساتھ گن سکتا تھا۔

صدر مملکت نے کہا کہ ہر اُمیدوار کا رزلٹ پول ختم ہونے کے پانچ منٹ کے اندر دستیاب ہوتا اور پرنٹ بھی ہوجاتا، ہماری یہ تمام جدوجہد، جس کے لیے ایوان صدر میں 50 سے زائد میٹنگ ہوئیں ناکام گئی
 
Top