کتابچۂ لطائف و مزاحیہ تحاریر (بلا تبصرہ - احباب صرف اپنا تاثر دیں۔ شکریہ)

شعیب گناترا

لائبریرین
‏دلّی کے ایک چٹورے نے دوسرے سے کہا:

‏بھائی سبطین! سنا ہے بھائی عارفین نہاری کی دیگ میں گر کر مر گئے؟

‏ہاں سنا تو ہم نے بھی ہے...

‏کیا گرتے ہی مر گئے؟

‏نہیں تو! دو دفعہ باہر نکلے تھے۔
ایک دفعہ ادرک لینے اور دوسری دفعہ نیبو کے لئے...
 

شعیب گناترا

لائبریرین
لڑکی دکاندار سے: بھائی صاحب یہ سوٹ کتنے کا ہے؟
دکاندار : ۳۰۰۰ کا ہے
لڑکی : اُف!
لڑکی: اور وہ والا؟
وکاندار : دو دفعہ اُف!
 

شعیب گناترا

لائبریرین
جاپان 7G چلانے جارہا ہے اور یہاں
باہر 4G، گلی میں +H، گھر میں E
اور کمرے میں Emergency Calls Only
اور تو اور رضائی میں تو Insert Sim دکھاتا ہے۔
 

شعیب گناترا

لائبریرین
اردو کے پروفیسر گھر آئے تو بیوی سے پوچھا، "بیگم آج کیا پکایا ہے؟"

مہنگائی کے ہاتھوں پریشان عورت نے جواب دیا؛ "خاک پکائی ہے."

پروفیسر صاحب بولے:
خاک کو الٹ کریں تو کاخ بنتا ہے، کاخ فارسی میں محل کو کہتے ہیں، محل کو الٹا کریں تو لحم بنتا ہے، لحم کو اردو میں گوشت کہتے ہیں، "اچھا بیگم آج گوشت پکایا بے۔"

جواب میں بیگم نے کہا کہ،
اگر گوشت کو الٹا کریں تو تشوگ بنتا ہے اور تشوگ سنسکرت میں سوٹے کو کہتے ہیں۔ یہ کہہ کر بیگم اٹھی ہی تھی کہ شوہر اگلی بات سمجھ گئے... پھر جو ہوا وہ اردو ادب کی ایک الگ تاریخ ہے۔
 
آخری تدوین:

شعیب گناترا

لائبریرین
ایک شخص اپنی بیوی کے پاس انتہائی پریشان شکل لیے آیا۔

بیوی نے پوچھا: آپ کو کیا ہوا؟

شوہر بولا: بادشاہ نے ہر اس شخص کے لئے قتل کا حکم دیا ہے جو دوسری شادی نہ کرے۔

بیوی یہ سن کر مسکرا کر بولی: کتنی بڑی سعادت ہے کہ الله تعالی نے آپ کو شہادت کیلئے چن لیا۔
 

شعیب گناترا

لائبریرین
ڈاکٹر نے ۸۰ سالہ بابے سے کہا:
اس عمر میں شادی کرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

بابا: مجھے پرواہ نہیں، مرتی ہے تو مر جائے!
 

شعیب گناترا

لائبریرین
‏بوس نے لطیفہ سنایا،
سارا اسٹاف ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگیا۔
سوائے ایک شخص کے جس کے چہرے پہ کوئی تاثر ہی نہیں تھا۔
بوس نے پوچھا؛ کیا ہوا لطیفہ سمجھ نہیں آیا؟
وہ بولا سمجھ آگیا ہے لیکن میں استعفیٰ دے چکا ہوں۔
 

شعیب گناترا

لائبریرین
ایک کرنل صاحب کنویں میں گر گئے۔

سپاہی رسہ کنویں میں پھینکتے، جیسے ہی کرنل صاحب اوپر آتے تو سپاہی رسا چھوڑ کر کرنل صاحب کو سیلیوٹ مارتے، کرنل صاحب پھر کنویں میں گر جاتے۔

ایک تجربہ کار سپاہی نے مشورہ دیا کہ کسی بریگیڈئیر صاحب کو تکلیف دیتے ہیں تاکہ انہیں کرنل صاحب کو سیلیوٹ نہ کرنا پڑے۔ بریگیڈئیر صاحب نے رسہ ڈالا کرنل صاحب نے رسہ پکڑا اور بریگیڈئیر صاحب نے رسہ کھینچنا شروع کیا۔ جیسے ہی کرنل صاحب کنارے کے نزدیک پہنچے اور ان کی نظر بریگیڈئیر صاحب پر پڑی تو انہوں نے رسہ چھوڑ کر بریگیڈئیر صاحب کو سیلیوٹ مارا اور پھر سے کنویں میں گر گئے۔

بار بار یہی ہوا آخر کار کرنل صاحب کی کنویں سے آواز آتی ہے: "کم بختوں کسی سویلین کو بلاو۔"
 

شعیب گناترا

لائبریرین
دروازے پر گھنٹی بجی۔ نوکر نے دروازہ کھولا۔

آنے والے صاحب نے پوچھا؛ "امجد صاحب ہیں؟"

جی نہیں وہ شہر سے باہر گئے ہوئے ہیں۔

”کیا سکون اور تفریح کی غرض سے گئے ہیں؟“

میرا خیال ہے ایسا تو نہیں، بیگم صاحبہ بھی ان کے ساتھ گئی ہیں؛ نوکر نے ادب سے جواب دیا۔
 

شعیب گناترا

لائبریرین
جب فیملی کے ساتھ باہر جانے لگو تو؛

دوسرے ممالک:
چیک کر لو سب کچھ رکھ لیا، کچھ رہ تو نہیں گیا؟

ہمارے ہاں:
جس جس نے واش روم جانا ہے، ہو آئے راستے میں گاڑی نہیں رکے گی۔
 

شعیب گناترا

لائبریرین
امیر شادی کرتا ہے اور ہنی مون پر چلا جاتا ہے۔

غریب شادی کرتا ہے پانچ مہینے ٹینٹ والا اس کے پیچھے رہتا ہے۔ ۲۰ پلیٹیں، ۱۵ چمچ ، ۷ گلاس اور ۴ جگ پورے کرو استاد!
 

شعیب گناترا

لائبریرین
ڈاکٹر نے مریض کی بیوی کو الگ بلا کر کہا؛ آپ کے شوہر ٹھیک ہو سکتے ہیں بشرطیکہ آپ انہیں کوئی ٹینشن نہ دیں، ان کا خیال رکھیں اور دل و جان سے ان کی خدمت کریں۔

بیوی واپس آئی تو مریض شوہر نے پوچھا؛ ڈاکٹرنے کیا کہا؟

بیوی: ”ڈاکٹر نے جواب دے دیا ہے۔“
 

شعیب گناترا

لائبریرین
ایک انسپکٹر صاحب اسکول کے دورے پر آئے ہوئے تھے، وہ ایک کلاس روم میں داخل ہوئے۔

استاد نے اپنے طلبہ کی قابلیت دکھانے کے لیے ایک طالبعلم کو کھڑا کر کے پوچھا؛ ”بتاؤ فیصل! سومنات کا مندر کس نے توڑا تھا؟“

طالبعلم نے جواب دیا: ”سر! قسم لے لیں میں نے نہیں توڑا۔۔۔ استاد نے شرمندگی سے کہا بیٹھ جاؤ نالائق کہیں کے!“

اس سے پہلے کہ استاد کسی دوسرے طالبعلم کو کھڑا کرتے انسپکٹر نے استاد کے قریب آ کر رازدانہ لہجے میں کہا: ”ذار سختی کرو مجھے تو اسی لڑکے کی حرکت لگتی ہے۔“
 

شعیب گناترا

لائبریرین
عورتوں کے ایک گروپ سے پوچھا گیا کہ کون کون اپنے شوہر سے پیار کرتی ہیں؟ سب نے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔

ان سب کو ایک پیغام دیا گیا کہ اپنے اپنے شوہر کو SMS کر دو۔
پیغام تھا ”I LOVE YOU“ تو ان کے شوہروں کے جواب کچھ یوں آئے؛
۱- تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ناں۔
۲- اب کیا ہو گیا؟
۳- پھر سے کار کہیں مار دی کیا؟
۴- ایکسکیوزمی!
۵- صرف اتنا بتاؤ کہ پیسے کتنے چاہئیں؟
۶- نشہ تو نہیں کیا؟
۷- اب کیا کر دیا تم نے؟ اس بار معاف نہیں کروں گا۔
اور سب سے اچھا جواب یہ تھا؛
۸- آپ کون ہیں؟
 

شعیب گناترا

لائبریرین
ریلوے اسٹیشن پر دو آدمی جھگڑ رہے تھے۔

ایک نے کہا: ”میں اتنے زور سے ہاتھ ماروں گا کہ تو کراچی پہنچ جائے گا۔“

دوسرے نے کہا: ”میں اتنا زور دار تھپڑ لگاؤں گا کہ تو لاہور پہنچ جائے گا۔“

ساتھ کھڑا ایک دیہاتی کہنے لگا: ”استاد جی! ذرا مینوں آہستے جے مارنا میں نال آلے ٹیشن تے جانا اے۔“

(استاد جی! مجھے ذرا آہستہ سے مارنا میں نے ساتھ والے اسٹیشن پر جانا ہے)
 

شعیب گناترا

لائبریرین
ایک نشئی نماز کے وقت سگریٹ کے کش لگا رہا تھا۔ اس کے بچے وضو کر کے نماز کے لیے مسجد جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ بچوں کا دادا چارپائی پر لیٹا یہ سارا ماجرا دیکھ رہا تھا۔

دادا اپنے نشئی بیٹے کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا، اوئے بے غیرتا! تینوں شرم نئی آؤندی؟ بچے نماز لئی مسیتی جارے نیں تے توں آپ مزے نال سگریٹ دے کش لاریاں ایں۔

نشئی نے مسکرا کر باپ کو دیکھا اور بولا؛ ویکھیا فیر! اپنی تربیت تے میری تربیت دا فرق۔
 
Top